نظم “کتابیں پڑھیں” از ڈاکٹر ظفرکمالی

1
203

فسانوں میں دل کش فسانہ کتاب
خزانوں میں نادر خزانہ کتاب
نہ ہو کیوں ہمارا ترانہ کتاب
کتابیں زمانہ ، زمانہ کتاب
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

سلیقہ ، طریقہ ، قرینہ ملے
سمندر میں ہم کو سفینہ ملے
بڑی حکمتوں کا دفینہ ملے
ترقّی کا ان سے ہی زینہ ملے
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

بزرگوں نے دی ہے ہمیں یہ خبر
کتابیں ہیں انساں کے دل کی نظر
بناتی ہیں سب کو یہی نامور
کتابوں سے لگتے ہیں شہرت کو پَر
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

انھیں سے ہے شاداب دل کا چمن
کریں ان کی خاطر نہ کیوں ہم جتن
انھیں سے ہے یہ انجمن، انجمن
انھیں سے تو روشن ہے شاعر کا فن
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

یہی ہیں یہی نرم گفتار دوست
کتابیں ہیں سب کی وفادار دوست
ملے گا کہاں ایسا غم خوار دوست
کہاں ان سے بہتر مددگار دوست
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

بنا دیں یہ ہشیار نادان کو
سکھا دیں یہ تہذیب حیوان کو
یہ گل زار کر دیں بیابان کو
دبادیں قیامت کے طوفان کو
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

نہ ان میں ہے نخوت نہ ان میں غُرور
کتابوں سے ہو دور دل کا فُتور
یہی ہم کو جینے کا بخشیں شُعور
طبیعت کو حاصل ہو ان سے سُرور
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

کتابیں دماغوں کی تنویر ہیں
ہماری یہ دولت ہیں، جاگیر ہیں
کتابیں ہی خوابوں کی تعبیر ہیں
کتابیں ہی قوموں کی تقدیر ہیں
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

جہالت ہے دل کا اندھیرا میاں
بڑا سخت ہے اس کا گھیرا میاں
خوشی کا نہیں یہ سویرا میاں
جہالت ہے ظلمت کا ڈیرا میاں
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں

کتابوں کی عظمت کو دل کا سلام
کتابوں کی رِفعت کو دل کا سلام
کتابوں کی حُرمت کو دل کا سلام
کتابوں کی جنّت کو دل کا سلام
کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں



Previous articleافسانہ”مردہ پرستی” از محمد علیم اسماعیل
Next articleمجید امجدکی نظمیں:ایک ماحولیاتی تنقیدی مطالعہ

1 COMMENT

  1. مکرمی اڈیٹر قبلہ
    آداب و تسلیمات
    استاذ گرامی قدر کی نظم ”کتابیں پڑھیں”بہت عمدہ اور افادی نظم ہے۔ نظم کتاب اور اہل کتاب کے نصب العین اور مقاصد کی ترجمان ہے۔ تہذیب اور ترقی اسی کے دم سے قایم ہے۔ اس کا تعلق خواہ تہذیب نفس سے ہو یا تہذیب قوم و ملل سے۔ استاد نے اس کی طرف خوب اشارہ کیا ہے ع۔۔۔کتابیں ہیں انساں کے دل کی نظر۔بلا شبہ شاعر کا فن انہی کتابوں سے تجلی پاتا ہے۔سقراط نے کہا ہے کہ انسان نے جب کسی دوسرے کی جانب سے آءے پتھر کا جواب باتوں سے دیا ہوگا تو وہی لمحہ انسانی تہذیب کا نقطہ آغاز ہے۔ باتوں اور قیمتی خیالات کی افزایش کا سرچشمہ کتابیں ہیں۔ استاذی ڈاکٹر ظفرکمالی مدظلہ العالی تہذیب اور انسان کی بلند نگہی کے پارکھ ہیں۔ اسی ان کی حیات مستعار کا ہر لمحہ کتب بینی اور کتابوں کی رفاقت میں گزرتا ہے۔ بلاشبہ کتابیں انسان کو جہالت اور کم نگہی سے نبردآزماءی کا ہنر سکھاتی ہیں۔اپنے اندرکے کبر سے لڑنا سکھاتی ہیں اور مہذب انسان بناتی ہیں۔
    کتابیں دماغوں کی تنویر ہیں
    ہماری یہ دولت ہیں، جاگیر ہیں
    کتابیں ہی خوابوں کی تعبیر ہیں
    کتابیں ہی قوموں کی تقدیر ہیں
    کتابیں پڑھیں ہم کتابیں پڑھیں
    دلی مبارک باد

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here