“نیند” از شاہ تاج(پونے)

1
112

کل صبح ۱۰؍بجے دادی کی کلاس ہے۔۔۔سب کے فون پر میسیج آگئے ہیں۔۔۔ یعنی با ضابطہ طور پر مطلع کر دیا گیا ہے۔کوئی بہانہ کام نہیں آئے گا۔۔۔ایسی میٹنگ ہمیشہ کسی خاص موقع پر ہی بلائی جاتی ہے۔ ہماری دادی بہت خاص ہیں۔۔ہر مشکل میں مددگار،سب سے اچھی دوست اوربہت پیار کرنے والی۔۔۔ دادی اسکول کی پرنسپل رہ چکی ہیں تو کبھی کبھی سختی گھر میں بھی دکھائی دے جاتی ہے۔
ہم چار بھا ئی بہن ہیں۔میرے بڑے بھائی عامر اور میں عنبرین۔۔۔۔بڑے ابو کے دو بیٹے‘اجمل اور اکمل۔۔۔میں سب سے چھوٹی ہوں اور ساتویں جماعت میں پڑھتی ہوں۔ میسیج دیکھتے ہی اکمل بھائی جان نے فوراََ ہنگامی میٹنگ بلائی۔۔۔ ہم چاروں بہن بھائی سر جوڑ کر بیٹھے کہ آخر دادی نے میٹنگ کیوں بلائی ہے۔۔۔؟ لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔اور ہم سب صبح کا انتظار کرنے لگے۔۔۔
صبح ناشتے کے وقت بھی عجیب سا ماحول تھا۔بڑے ابّو جو اکثر باتیں کرتے تھے وہ بھی خاموشی سے ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔امّی اور بڑی امّی بھی خاموش سی لگ رہی تھیں۔۔میرے ابّو تو ویسے بھی خاموشی سے کھانا کھانے کے عادی ہیں۔خلاف عادت ابّو نے دادی سے کہا۔۔’’کیا ہم سے کوئی غلطی ہو گئی ہے،جو آپ نے ہمیں بلایا ہے۔۔۔؟‘‘
دادی نے کہا۔۔ ’’آرام سے ناشتہ کیجئے۔ پھر ۱۰؍بجے کمرے میں آئیے۔‘‘
اس کا مطلب گھر کے سبھی لوگوں کو آج دادی نے بلایا تھا۔۔۔ یعنی بات معمولی نہیں ہے۔۔۔اب تو ہم سب کی حالت مزید خراب ہو گئی۔ گھڑی بھی بہت سست چل رہی تھی۔۔۔۱۰؍بجنے کا انتظار بہت لمبا ہو گیا تھا۔۔ وقت پر ہم دادی کے کمرے میں پہنچے تو وہاں سب لوگ پہلے سے ہی موجود تھے۔۔۔سلام کرکے ہم لوگوں نے بھی سوچا کسی کونے میں بیٹھ جاتے ہیں لیکن دادی نے ہم چاروں کو ان کے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں چاہتی تھی کہ دادی جلدی سے بتا دیں کہ کیا بات ہے۔۔؟
کمرے میں ایک دم خاموشی تھی۔۔۔دادی نے گلا صاف کیا اور بولنا شروع کیا۔۔۔۔’’آج کل آپ لوگ کتنے گھنٹے سوتے ہو؟‘‘
میں نے حساب لگایا تو مشکل سے پانچ گھنٹے ہی سو رہی ہوں۔۔۔اور۔۔۔ میرے بگ برادرس تو تین چار گھنٹے سے زیادہ نہیں سو رہے ہیں۔۔۔کیونکہ اسکول جانا نہیں ہے اس لیے امّی نے بھی تھوڑی رعایت دے رکھی ہے۔۔۔ہمارے گھر کے کچھ اصول ہیں۔۔۔جن میں صبح ناشتے کے لیے ٹھیک آٹھ بجے سب کو موجود رہنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔اس لیے سوئیں کبھی بھی۔۔۔ لیکن جاگنا وقت پر ہی ہوتا ہے۔ ورنہ۔۔۔!
دادی نے یہ بات سیدھے سیدھے بڑے ابّو سے پوچھی تھی۔’’امّی میں آج کل گھر سے ہی کام کر رہا ہوں۔۔۔اس لیے اکثر رات میں دیر ہو جاتی ہے۔۔۔ساری میٹنگ بھی آن لائن کرنا ہوتی ہیں۔۔اس لیے دیر رات تک جاگ رہا ہوں۔۔۔‘‘
دادی نے صرف ’ہوں ‘کہا اور امّی اور بڑی امّی کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔ ’’بڑی امّی نے آہستگی سے جواب دیا۔۔۔’’جی امّی۔۔! آج کل لوگ رات میں ہی فون کرتے ہیں،بات کرتے کرتے وقت کا علم نہیں ہوپاتا ،اس لیے اکثر ہم بھی دیر میں سوتے ہیں۔۔۔اکمل کے ابّو کام کرتے ہیں تو لائیٹ بھی جلتی رہتی ہے۔۔۔‘‘
دادی کے سامنے بہانے پیش کیے جا رہے تھے۔۔۔ ہم بھی اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑا رہے تھے۔۔۔کہ نہ جانے کب دادی ہم پر حملہ کر دیں۔۔۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔۔۔دادی نے بڑی امّی کی طرف دیکھا اور مسکرائیں۔۔۔
’’آج میں خاص طور پر اپنے پوتے پوتیوں سے بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ لیکن میں نے پچھلے کچھ دنوں میں محسوس کیا کہ بڑے بچوں کو بھی کچھ پرانے سبق یاد دلانے کی ضرورت ہے۔‘‘
میں نے سکون کا سانس لیا کہ ڈانٹ سب کو برابر پڑنے والی ہے۔۔۔اب مجھے مزاآنے لگا۔۔۔میں دادی کے تھوڑا اور قریب ہوکر بیٹھ گئی۔۔۔دادی نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔ اور اپنی بات شروع کی۔
’’ہم اپنی زندگی میں ایسے کئی کام کرتے ہیں جن پر ہمارا کوئی بس نہیں چلتا۔۔۔ جیسے پلکیں جھپکنا،سانس لینا اور سونا۔۔۔یہ تو آپ سب جانتے ہو کہ لگاتار بہت دیر تک ہم جاگ نہیں سکتے۔ہمیں ایک وقت کے بعد شدید طور پر نیند کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔‘‘
’’ہم سوتے کیوں ہیں؟‘‘ میں نے دادی سے پوچھا۔۔۔
’’یہ تو آج تک معلوم نہیں ہو پایا ہے کہ ہم سوتے کیوں ہیں؟ لیکن ہم یہ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگر ہم اپنے جسم کی ضرورت کے حساب سے نیند پوری نہ کریں تو ہم بہت ساری خطرناک بیماریوںکا شکار ہو سکتے ہیں۔۔‘‘
’’جی دادی ! اگر میں ایک دن بھی صحیح سے نا سوؤں تو مجھے کلاس میں نیند آتی رہتی ہے اور استاد کی کوئی بات بھی سمجھ نہیں آتی۔‘‘اکمل بھائی نے کہا۔۔۔
’’جی اکمل۔۔!سوچئے۔۔ایک دن کی نیند اگر ہمارے کام کو اس حد تک متاثر کرتی ہے تو لگاتار جاگنا ہماری صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘‘ہم سب تائید میں سر ہلا رہے تھے۔
’’ہم سب کو ۸ سے ۱۰گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔حالانکہ یہ ہر ایک کے جسم کی ضرورت پر منحصر کرتی ہے۔ جیسے رات میں اگر میں ۷گھنٹے اچھی طرح سو لیتی ہوں تو خود کو ترو تازہ محسوس کرتی ہوں۔۔۔لیکن کچھ لوگوں کو ترو تازہ ہونے کے لیے ۹گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہو سکتی ہے۔لیکن آج کل لوگ ۶ یا ۷ گھنٹے ہی سوتے ہیں۔نوجوانوں میں تویہ وقفہ سمٹ کر ۴ سے ۵ گھنٹے پر پہنچ گیا ہے۔‘‘ انہوں نے باری باری ہم سب کی طرف دیکھا۔ہم سب نظریں جھکائے دادی کی باتیں سن رہے تھے۔آج تو ہمارے ساتھ ہمارے والدین بھی دادی کی بات کا جواب دینے کی لائق نہیں تھے۔۔۔۔
’’دادی !آج کل اسکول نہیں جانا ہے اس لیے تھوڑا زیادہ دیر جاگ لیتے ہیں۔۔۔لیکن جاگتے ہم وقت پر ہی ہیں۔۔‘‘میں نے ڈرتے ڈرتے دادی سے کہا۔ سب نے میری ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔
’’صبح وقت پر جاگتے ہو۔۔۔۔ یہ اچھی بات ہے۔۔۔مسئلہ یہی ہے نا کہ پھر آپ کی نیند مکمل نہیں ہوئی۔۔۔جس سے آپ کی قوت مدافعت متاثر ہو گی،آپ کی یادداشت پر بھی اس کااثر دکھائی دینے لگے گا،آپ اپنے کام پر توجہ نہیں دے پائیں گے اور آپ کا وزن بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘
اجمل بھائی جو بہت کم بولتے ہیں انہوں نے پوچھا۔۔’’نیند کا ان باتوں سے کیا تعلق ہے۔۔؟‘‘
’’چلیے میں آپ کو نیند کی سائنس سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔ہمارے دماغ کا ایک حصہ ہے ’ ہائپوتھیلیمس (Hypothalamus )‘جو متعدد چھوٹے مرکزوں ( nuclei) پر مشتمل ہوتا ہے جس میں مختلف کام ہوتے ہیں۔میلاٹونن melatonin ہمارے جسم میں قدرتی طور پر پایا جانے والاایک ہارمون ہے۔اس کا بنیادی کام رات اور دن کے چکروں یا نیند کے نظام کو سنبھالنا ہے۔ میلاٹونن melatoninجسم کو یہ سگنل دیتا ہے کہ سونے کا وقت ہوگیا ہے۔
اندھیرا بڑھنے کے ساتھ پائنل غدہ pineal gland سلیپ ہارمون چھوڑتا ہے۔لیکن اب دن اور رات کا فرق نظر نہیں آتا۔ اتنی روشنی ہوتی ہے کہ رات میں بھی دن کا گمان ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں جسم کا سسٹم بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہ پاتا۔جس کی وجہ سے ہماری حیاتیاتی گھڑی bio clockبھی الجھن کا شکار ہو جاتی ہے۔‘‘ دادی ایک دم صحیح بات کہہ رہی تھیں۔ایک مرتبہ دوپہر میں ہم مال میں گئے تھے اور کب رات ہو گئی ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔ اس وقت ہمیں جھٹکا لگا تھا جب ہم مال سے باہر آئے۔۔۔
’’امّی۔۔! کیا دو چار گھنٹے کی نیند ہمارے لیے کافی نہیں ہے۔۔؟‘‘میری امّی نے پوچھا۔۔۔
’’شاید نہیں۔۔۔! صرف نیند کی مقدار ہی نہیں بلکہ اس کا معیاری بھی ہونا ضروری ہے۔ ہم کتنی اچھی طرح سوئے ہیں یہ زیادہ اہم ہے۔ اکثردیکھا ہے نا کہ ہم کچھ وقت سونے پربھی خود کو کافی ترو تازہ محسوس کرتے ہیں۔ایک رات میں ہماری نیند پانچ دور سے گزرتی ہے۔ جنہیں دو حصّوں میں منقسم کیا جاتا ہے۔پہلا حصہ بغیر تیز حرکتِ چشم کی نیند non-rapid eye movement (NREM) کہلاتا ہے اور دوسراحصہ تیز حرکتِ چشم نیند rapid eye movement (REM) کہلاتا ہے۔۔۔ایک سے لے کر چوتھے دور تک ہماری آنکھیں بالکل حرکت نہیں کر رہی ہوتی ہیں کیونکہ یہ این آر ای ایم کا وقفہ ہوتا ہے۔پانچویں اور نیند کے آخری حصّے میں ہم خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں ،نیند گہری ہوتی ہے لیکن آر ای ایم دور کے سبب ہماری آنکھیں کافی تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔‘‘
’’دادی! آپ نے کہا نیند کے پانچ حصّے ہیں۔ ان کے بارے میں بتائیے؟‘‘ اکمل بھائی نے پوچھا۔
’’جی اکمل۔۔!نیند کے پہلے حصّے میں غنودگی کا احساس ہوتا ہے۔سوتے جاگتے جیسی کیفیت ہوتی ہے۔دوسرے دور میں جب ہم نیند میںداخل ہوتے ہیں تو ہلکی نیند ہوتی ہے ہم آسانی سے جاگ جاتے ہیں۔۔۔تیسرے حصّے میں ہم گہری نیند کی طرف بڑھتے ہیں۔۔۔چوتھے حصّے میں ہم گہری نیند کے آغوش میں پہنچ جاتے ہیں اور سب سے آخر میں گہری نیند کے ساتھ خواب کے مزے بھی لیتے ہیں۔ اب اتنی ساری منزلیں طے کرنے کے لیے نیند کو تھوڑاوقت تو چاہیے نا۔۔۔‘‘
بڑی امّاں نے کہا’’جی امّی۔۔! آپ بالکل درست کہہ رہی ہیں۔۔ ہم شرمندہ ہیں کہ آپ کو ہمیں یہ سب یاد دلانا پڑا۔۔۔ہم اپنے کاموں کو ہی نہیں دیکھ رہے تھے تو بچوں کو کیا سمجھاتے۔۔۔۔؟‘‘
’’معلوم ہے۔۔۔ہم نیند میں چھینک نہیں سکتے۔۔‘‘سنجیدہ بات کرتے کرتے دادی نے ایسی بات کی تو ہم سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔۔دادی مسکرا رہی تھیں۔۔۔۔ ’’اور ایک بات۔۔‘‘ دادی نے آگے کہا۔۔۔
’’دیکھو بچوں۔۔!ہم اپنی زندگی کا تقریبا ایک تہائی حصّہ سو کر گزارتے ہیں ، لیکن یہ تو مجبوری ہے۔اگر زندہ اور صحت مند رہنا ہے تو نیند تو پوری کرنی پڑے گی کیونکہ لگاتار جاگنے سے موت تک بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔ ‘‘دادی جن باتوں پر روشنی ڈال رہی تھیں ان میں سے کئی باتوں سے متعلق میں بھی تھوڑا بہت جانتی تھی۔۔۔۔ گھر میں موجود سبھی لوگ نیند کی اہمیت سے واقف ہیں۔۔۔پھر بھی۔۔۔کوئی سوچ نہیں رہا تھا۔۔۔۔لیکن ہماری دادی زندہ باد۔۔۔انہوں نے سب کو ہوش دلادیا۔۔
’’اکثر آپ کی آنکھ الارم بجنے سے بھی پہلے کھل جاتی ہے۔۔ ‘‘بڑی امّی سے مخاطب ہو کر دادی نے کہا۔۔۔ یہ ہم سب جانتے ہیں کہ بڑی امّی کو کسی الارم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔۔دادی نے آگے کہا۔
’’اسے یومیہ تبدیلی یا شب و روز کی تبدیلی circadian rhythm (SCN) کہتے ہیں۔یہ اندھیرے اور اجالے کا سگنل دیتا ہے۔۔۔جب آپ لوگ فون،کمپیوٹر اور ٹیلی ویڑن کے سامنے رہو گے،اتنی تیز روشنی۔۔۔ تو ہمارے جسم کا پرفیکٹ سسٹم الجھن کا شکار ہوگا یا نہیں۔۔۔۔؟‘‘
’’جی۔۔! آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔‘‘
بڑی امّاں نے کہا۔۔’’آج سے سب رات دس بجے اپنے بستر پر ہونا چاہیے۔۔۔۔ورنہ۔۔۔‘‘
ہم سب نے کہا۔۔۔۔ ’’ایسا ہی ہوگا۔۔۔‘‘

Previous articleاموات کے اعداد وشمار: مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
Next articleافسانہ”مردہ پرستی” از محمد علیم اسماعیل

1 COMMENT

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here