دھماکہ۔۔(سائنسی مضمون)

0
153

شاہ تاج(پونے)
میرا نام عاقب ہے اور میں ساتویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔مجھے کچھ دن سے ایک دقت ہے۔۔اورمیں اس کے متعلق کسی سے بات کرنے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہا ہوں۔ایک بار میں نے سوچا داداجی سے بات کروںپھر ارداہ بدل دیا کہ شاید داداجی کے پاس اس کے بارے میں معلومات نہ ہوں۔۔امّی بہت سی باتوں کے جواب دیتی ہیں لیکن وہ بھی اتنی پڑھی لکھی نہیں ہیں کہ میرے سوال کا باریکی سے جواب دے سکیں۔۔وہ تو مجھے سنی سنائی باتیں ہی بتائیں گی۔۔رہے ابّو ۔۔تو ان کے پاس تو بات کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔۔!پریشانی یہ ہے کہ میں اپنی ٹیچر سے بھی اس بارے میں بات نہیں کر سکتاپوری کلاس مجھ پر ہنسے گی اور میں مذاق کا موضوع نہ بن جاؤں۔۔!میں یہ سب سوچ سوچ کر پریشان ہوا تو گوگل بابا کے پاس بھی گیا۔۔سوال کا جواب بھی ملا۔۔لیکن ہائے میری قسمت اور میری ذہانت کہ نہ تو مجھے انگریزی اتنی اچھی آتی ہے کہ میں انگریزی کی معلومات کو سمجھ سکوں اور بدقسمتی سے اردو کا حال بھی بہت اچھا نہیں ہے۔۔کم سے کم مجھے گوگل پر موجود جتنی اردو تو بالکل نہیں آتی۔۔معلوم نہیں کون سی اردو لکھتے ہیں۔۔؟وہ تو اچھا ہوا کہ آج اچانک ہمارے ڈاکٹر انکل گھر آگئے۔۔میرے دماغ کی گھنٹی بجی کہ انکل میرے مسئلہ کا بہترین حل بتا سکتے ہیں۔۔مجھے اس پریشانی سے نکالنے کے لیے سب سے بہترین ڈاکٹر انکل ہی ہیں۔جب ڈاکٹر انکل۔۔ داداجی کا معمول کا چیک اپ کر کے جانے لگے تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے دروازے تک چلا آیا ۔اور انکل سے دھیرے سے کہا
’’انکل مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔۔‘‘جتنے دھیرے سے میں نے اپنی بات کہی تھی انکل نے بھی اتنے ہی دھیرے سے کہا

’’جی عاقب دو بجے کے بعد آپ گھر پر آجائیے وہیں بیٹھ کر بات کریں گے ۔‘‘میں بھی یہی چاہتا تھا ۔ابھی صرف ۱۰ ہی بجے تھے ۔انتظار کرنا مشکل تھا پھر بھی مجھے یقین تھا کہ آج میرا مسئلہ ضرور حل ہو جائے گا۔میں وقت پر انکل کے یہاں پہنچ گیا۔
’’آؤ بیٹا عاقب۔۔آپ نے آج جس طرح بات کرنے کی اجازت مانگی مجھے محسوس ہوا کہ بات کافی سنجیدہ ہے ۔اس لیے آپ کو گھر پر بلایا۔تاکہ تفصیل سے بات ہو سکے۔آئیے بیٹھیے۔۔اور آرام سے مجھے اپنی پریشانی بتائیے۔۔!‘‘ڈاکٹر انکل نے مجھے اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔میں بھی جلد از جلد اپنی پریشانی کا حل چاہتا تھا اس لیے بنا دیر کیے اپنی بات کہنا شروع کی
’’ابھی کچھ دن پہلے ہی ہم نے اسکول جانا شروع کیا ہے۔مجھے پہلے یہ پریشانی کبھی نہیں تھی۔۔لیکن اب کلاس میں میری ریاح(fart) بغیر آواز کے خارج ہو جاتی ہے۔آواز نہیں آتی لیکن بدبو بہت زیادہ آتی ہے۔پوری کلاس میں بدبو پھیل جاتی ہے ۔میرے سبھی ساتھی پریشان ہو جاتے ہیں۔۔مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔میری وجہ سے میری ساتھی پریشان ہو رہے ہیں۔۔اور ایسا کئی بار ہوجاتا ہے۔۔کتنی غلط بات ہے نا۔۔۔!کیا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔۔؟کیا مجھے کوئی بیماری ہو گئی ہے۔۔؟‘‘میں نے نظریں نیچے کیے ہوئے جلدی جلدی اپنی بات ختم کی اور انکل کی جانب دیکھا کہ وہ ضرور ہنس رہے ہوں گے۔۔لیکن میں حیران رہ گیا انکل پوری طرح سنجیدہ تھے ۔وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر میرے پاس آئے اور میرے سر پر شفقت سے ہاتھ پھرتے ہوئے کہا
’’شاباش۔۔آپ کو دوسروں کی پریشانی کی فکر ہے ۔آپ اپنے علاوہ دوسروں کے بارے میں بھی سوچتے ہیں اس سے میں بہت متاثر ہوا۔سب سے پہلے تو بیٹا گیس کے اخراج میں آپ پوری طرح بے قصور ہیں۔اور دوسرے آپ کو کوئی بیماری بھی نہیں ہے۔جسم میںموجود گیس کا ڈکار(burp) یا ریاح (fart)کی شکل میں اخراج ایک نارمل کیفیت ہے۔‘‘
’’یعنی مجھے کوئی بیماری نہیں ہے۔۔!‘‘میں نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
’’جی عاقب۔۔جب ہم کچھ بھی کھاتے یا پیتے ہیں تو اس کی ساتھ گیس بھی انجانے میں نگل لیتے ہیں۔اور وہ جو carbonated soft drinks آج کل آپ لوگ بہت زیادہ پیتے ہو وہ بھی گیس کا ایک اہم سبب ہے۔‘‘ڈاکٹر صاحب کی بات سمجھنے کے لیے میں نے پھر سوال کیا
’’آپ کا مطلب کولڈ ڈرنکس سے ہے۔۔؟‘‘
’’جی ۔۔وہی کوکا کولا،ماؤنٹین ڈیو،تھمس اپ وغیرہ۔۔میں انہیں کی بات کر رہا ہوں۔۔!‘‘انکل نے کہا
’’اوہ میں تو سمجھتا تھا کہ انہیں پینے سے ڈکار آتی ہے اور گیس خارج ہو جاتی ہے۔۔میں جب بھی کولڈ ڈرنک پیتا ہوں تو خوب ڈکار آتی ہے لیکن بدبودار گیس تو نہیں خارج ہوتی۔۔۔!‘‘میری بات پر ڈاکٹر انکل مسکرا دئیے
’’چلئے میں آپ کو آسان طریقے سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔عام طور پر لوگ دن میں ۵ سے ۱۵ بار تک گیس خارج کرتے ہیں۔یہ مقدار زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔یہ تو آپ جان ہی گئے ہیں کہ جب بھی ہم کچھ کھاتے پیتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں گیس اپنے آپ ہی داخل ہو جاتی ہے۔یہ تو آپ نے پڑھا ہی ہے کہ ہمارے جسم کا نظام ایسا ہے کہ غیر ضروری اشیاء کو نکال کر باہر پھنک دیتا ہے۔اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ کھانا کھانے کے بعد ڈکار(burp) آتی ہے۔۔کبھی ہلکی تو کبھی تیز۔۔اب جو ہم نے اپنے کھانے کے ساتھ گیس پیٹ میں ڈال دی تھی ۔۔اس میں سے کچھ گیس اوپر کی طرف یعنی ڈکار کی شکل میں جسم سے باہر کر دی گئی اور کچھ گیس نیچے کی طرف ۔۔ہماری آنتوں کا رخ کر لیتی ہے۔جو بعد میں fart کی شکل میں جسم سے باہر نکلتی ہے۔جنہیں قبض کی شکایت ہوان کے لیے گیس کا مسئلہ زیادہ مشکل حالات پیدا کر دیتا ہے۔کیونکہ غذائی کچرا (colon)بڑی آنت میں جمع ہوتا رہتا ہے۔جو اضافی گیس خارج کرنے لگتا ہے۔‘‘یہ ساری باتین مجھے بتاتے ہوئے انکل نے اپنے لیپ ٹاپ پر مجھے تصاویر بھی دکھانا شروع کر دی تھیں۔اس لیے مجھے ان مشکل باتوں کو سمجھنے میں کافی آسانی ہوئی۔جب انہوں نے آنت کی بات کی تب مجھے پیٹ کے اس حصّے کی اندر کے تصویر دکھائی۔۔مجھے آسانی سے سمجھ آگیا کہ یہ آنت میرے جسم کے کس حصّے میں ہے۔۔ہمارے ٹیچر ایسے کیوں نہیں پڑھاتے۔۔؟خیر میں نے پھر انکل سے پوچھنا شروع کیا
’’ڈاکڑ انکل ۔۔کیا آپ مجھے اس بارے میں کچھ اور معلومات دے سکتے ہیں۔۔؟ابھی تک تو میں اس موضوع پر بات کرنے میں جھجک رہا تھا۔۔لیکن اب سمجھ آیا کہ یہ نارمل بات ہے۔۔‘‘
’’جی عاقب اسےflatulenceیعنی ریاح۔۔آسان زبان میں کہیں تو پیٹ میں موجود گیس اور اس کا آواز کے ساتھ اخراج۔۔لیکن کبھی کبھی یہ خاموشی سے تو کبھی بم کے دھماکے کی شکل میں جسم سے باہر آتی ہے۔‘‘انکل نے ہنستے ہوئے کہا
’’بالکل جیسے داداجی اکثر بم پھوڑتے ہیں۔۔‘‘میں نے جلدی سے کہہ تو دیا لیکن پھر منہہ پر ہاتھ رکھ کر معافی مانگنے لگا
’’سوری انکل۔۔منہہ سے بے ساختہ نکل گیا۔۔‘‘انکل نے مسکرا کر میرے سر پر ہلکی سی چپت لگائی اور بات آگے بڑھائی
’’کھانا کھاتے ہوئے ہم صرف کھانا ہی نہیں کھاتے بلکہ نائٹروجن اور آکسیجن کی اضافی مقدار بھی پیٹ میں پہنچا دیتے ہیں۔جب اس کی مقدار جسم میں زیادہ ہو جاتی ہے تو اسے باہر جانے کا راستہ درکار ہوتا ہے۔اور وہ اپنا راستہ تلاش کر لیتی ہے۔۔اب آتے ہیں کہ اس میں بدبو کیوں ہوتی ہے۔۔؟ہماری (intestine)آنت میں بنا کرایہ دئیے لاکھوں بیکٹیریا رہتے ہیں۔لیکن وہ ہمارے کھانے کو ہضم کرنے کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔اس (process) عمل میں نائٹروجن،کاربن ڈائی آکسائڈ،ہائیڈروجن اور میتھین گیس کافی مقدار میں نکلتی ہیں۔حالانکہ ان میں بھی کوئی بدبو نہیں ہوتی۔۔‘‘میں نے حیران ہو کر پوچھا
’’تو انکل بدبو آتی کہاں سے ہے۔۔؟‘‘
’’اس کے لیے(sulfur compounds)سلفر مرکبات ذمہ دار ہوتے ہیں۔جیسے hydrogen sulfied, methanethiol, اورammonia وغیرہ‘‘
’’انکل ۔۔کبھی silent اور کبھی بہت تیز آواز کے ساتھ ریاح کیوں خارج ہوتی ہے۔۔؟اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی۔۔!‘‘ میں نے پوچھا
’’جی عاقب۔۔جب ہمارے (muscles) پٹھے آرام سے ہوتے ہیں تو عام طور پر ریاح خارج ہونے کی آواز نہیں آتی۔۔لیکن بدبو کافی زیادہ ہوتی ہے۔اور ہاں آپ کو شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوتی۔کوئی جان ہی نہیں پاتا کہ بدبو کہاں سے آئی ۔۔۔میں نے ٹھیک کہا نا۔۔؟‘‘
’’جی انکل ۔۔میرا یہی تو مسئلہ ہے۔۔!‘‘میں نے ایک مرتبہ پھر پریشان ہو کر کہا
’’حالانکہ تیز آواز کے ساتھ خارج ہونے والی گیس میں بدبو کم ہوتی ہے لیکن شرمندگی بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔۔اب سوچنا یہ ہے کہ بدبودار ریاح سے کیسے بچا جائے۔۔؟‘‘انکل نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا
’’آپ تو کہہ رہے تھے کہ ایک دن میں ۵ سے ۱۵ مرتبہ تک گیس کا اخراج ایک نارمل بات ہے تو پھر اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔۔؟‘‘میں کشمکش میں تھا
’’بتاتا ہوں۔۔گیس کا خارج ہونا نارمل ہے لیکن بدبودار گیس نارمل نہیں ہے۔اس کے لیے اگر ہم کچھ معمولی باتوں کا دھیان رکھیں تو بدبودارfart سے بچا جا سکتا ہے۔۔۔!‘‘
’’ارے واہ۔۔جلدی سے بتائیے۔۔میں ان باتوں پر آج سے نہیں بلکہ ابھی سے عمل کرنا شروع کر دوں گا۔۔‘‘میں نے خوش ہوکر کہا
’’اس بدبو کے لیے یوں تو بہت سی چیزیں ذمہ دار ہیں لیکن خاص طور پرپھلیاں،تلی ہوئی چیزیں اور پیاز کارول سب سے زیادہ ہے۔جب ہمارے پیٹ کے اندر کھانا ہضم کرنے کا کام چل رہا ہوتا ہے تب ان میں سے بڑی مقدار میں گیس کا اخراج ہوتا ہے۔اس کے علاوہ دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی چیزیں بھی کسی کسی کے جسم میں ردّعمل دکھاتی ہیں۔دودھ میں موجود lactose ۔۔یہ ایک قسم کی شکر ہی جو دودھ میں پائی جاتی ہے۔۔کچھ لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بنتی ہے۔۔لیکن اس کے لیے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا حل آپ کے فیملی ڈاکٹر کے پاس موجود ہوتا ہے ۔لیکن ہر بات کوئی خطرناک وجہ ہی ہو یہ ضروری نہیں ہے۔۔ہو سکتا ہے آپ کا پیٹ کہہ رہا ہو کہ جسم سے فضلات خارج کرنے کی ضرورت ہے اور بیت الخلا کی جانب دوڑ لگائی جائے۔۔ہا ہا ہا‘‘ میں نے جھینپتے ہوئے ایک اور سوال کیا
’’کیا ہم ایسا کچھ کر سکتے ہیں کہ یہ گیس ہمارے اور ہمارے چاروں طرف موجود لوگوں کے لیے مسئلہ نہ بنے۔۔؟‘‘
’’جی ضرور کر سکتے ہیں۔۔اگر ہم اپنی غذا پر توجہ دیں،آہستہ آہستہ اور چبا چبا کر کھانا کھائیں،کھانا ہلکا گرم ہی کھائیں۔۔اور یہ تو میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ روز صبح اپنے داداجی کے ساتھ سیر پر جاتے ہو۔۔یہ ایک اچھی عادت ہے لیکن صرف ٹہلنا ہی کافی نہیں ہے ۔۔کم از کم ۲۰ منٹ تیز چلنے کی عادت ڈالیے۔پانی بھی اچھی طرح پیجئے ۔۔دیکھئے کچھ ہی روز میں آپ دیکھیں گے کہ بدبودار گیس سے آپ کو نجات مل گئی ہے۔ایک بات اور۔۔رات کا کھانا کھا کر فوراً بستر پر نہیں لیٹنا ہے بلکہ کچھ ہلکی پھلکی چہل قدمی کرئیے۔۔آپ ابھی بچے ہیں۔۔ان باتوں کو اپنی زندگی کا حصّہ بنا لیں گے تو ہمیشہ صحت مند رہیں گے۔۔!‘‘
’’جی ڈاکٹر انکل ۔۔میں آپ کی ہر بات پر عمل کروں گا۔آپ نے میرے ذہن سے بوجھ اتار دیا۔۔میں کئی دن سے پریشان تھا۔۔آپ کا بہت بہت شکریہ۔۔!‘‘
Shahtaj khan
9225545354
shahtaj786@gmail.com

Previous articleملکہ زبیدہ کے محل میں سوباندیاں حافظہ قرآن
Next articleافراد اور اداروں پر تنقید کرنے کی بجائے خود تعمیری پہل کیجیے

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here