“ندامت کے آ نسو”از : عارف مجید عارف( حیدرآباد )

2
140

جدید سنی پکس سینما کے پردے پہ فلم چل رہی تھی احمد اپنے دوست کمال کے ساتھ بیٹھا یخ بستہ ماحول میں فلم کا لطف اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔ احمد آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور کمال اس کا ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا پڑوسی بھی تھا۔۔۔احمد کے والد ایک اچھے عہدے پر سرکاری نوکری پر فائز تھے اس کے علاوہ انہیں وراثت میں ملی ہوئی تین دکانوں کا کرایہ بھی ملتا تھا جس کی وجہ سے ان کی گزر بسر بہت اچھی ہو رہی تھی اس کے والدین انتہائی شریف اور اچھے لوگ تھے اس کی ایک چھوٹی بہن بھی تھی جو اس سے چار سال چھوٹی تھی۔۔یہی دونوں بہن بھائی اپنے والدین کی کل کائنات تھے ۔۔ان کے گھر کا ماحول بہت اچھا اور سلجھا ہوا تھا

احمد طالب علم بھی اچھا تھا اس کے علاوہ گھر کے کام کاج میں بھی دل لگاتا تھا وہ ایک فرمانبردار بچہ تھا جب کہ اس کے دوست کمال کے والد ایک پرائیویٹ نوکری کرتے تھے ۔۔ کمال شرارتی اور چالاک قسم کا بچہ تھا اس کا کھیل کود میں بہت دل لگتا تھا وہ اوسط درجے کا طالب علم تھا لیکن مناسب نمبروں سے پاس ہو جایا کرتا تھا دونوں ساتھ ہی کرکٹ کھیلا کرتے تھے ۔۔

کمال کی ترغیب پر احمد اور کمال اپنے گھر کے قریب ہی واقع شاپنگ مال کے اندر بنے سنی پلیکس (سینیما) میں فلم دیکھنے جاتے اور بہانہ کردیتےکہ کرکٹ کا میچ کھیلنے گئے ہیں۔۔۔شاپنگ مال میں سینیما ہونے کی وجہ سے ان کے پکڑے جانے کا خدشہ بھی کم تھا۔۔ اب دونوں شدت سے اس لت میں عادی ہو چکے تھے۔۔۔
مہینے کے شروع میں ایک دو فلم دیکھنے کا شوق تو اپنے جیب خرچ سے بچائے ہوئے پیسوں سے کرلیا کرتے تھے لیکن اس کے بعد ان کے پاس اس کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔۔کمال نے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ اپنی امی اور ابو کے پیسے چرا لیا کرتا تھا اور اس طرح وہ فلم دیکھ لیا کرتے تھے اسی کے اکسانے پرکہ گھر والوں کے پیسے بھی ہمارے ہی ہیں یہ کوئ چوری تھوڑی ہے پر احمد نے بھی یہ حرکتیں شروع کر دیں اور وہ بھی اب تک سات آٹھ مرتبہ اپنی امی اور ابو کے پیسے چرا چکا تھا اور یوں ان کا فلم دیکھنے کا شوق پورا ہو رہا تھا یہ سوچے بغیر کہ وہ چوری کر رہے ہیں ۔۔(یہ بھی پڑھیں!کہانی”سچی دوستی” از جہانگیر انس)
احمد کی والدہ اپنے جوڑوں کے درد کی تکلیف کی وجہ سے زیادہ کام نہیں کر سکتی تھیں اور وہ صرف کھانا بنایا کرتی تھیں۔۔ اسی لئے اس کے والد نے برتن دھونے ،کپڑے دھونے اور صفائی ستھرائی ان سب کاموں کے لیے ایک ملازمہ رکھ لی تھی جو صبح اور شام دونوں وقت آیا کرتی تھی وہ قریبی کچی آبادی میں رہا کرتی تھی اس کا نام خالدہ تھا وہ بہت ذمہ دار عورت تھی اور بہت صاف ستھرا رہا کرتی تھی اس کا شوہر دیہاڑی دار مزدور تھا اس کا ایک بیٹا بھی تھا جسے وہ پڑھا رہی تھی لیکن اپنی کم دستی کے باعث اسکول کی فیس باقائدگی سے نہیں دے پاتی تھی جب اسنے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ بچے کی فیس نہیں دے سکتی تو احمد کی والدہ نے اس کی فیس ادا کرنے کی حامی بھر لی اور اسی طرح وہ بچہ بھی اسکول جانے لگ گیا۔۔۔ احمد کی والدہ اس کو تنخواہ کے علاوہ بعض اوقات اضافی پیسوں کے ساتھ ساتھ اپنے اور اپنے شوہر کے کے پرانے کپڑے بھی دے دیا کرتی تھیں ۔۔۔۔
آج بھی دونوں دوست یہی جھوٹ بول کر کہ شام کو ہمارا کرکٹ کا میچ ہے ۔۔۔ یہ بہانہ کر کے دونوں دوست شاپنگ مال میں گھومنے کے بعد سینی پلیکس کے ہال میں موجود تھے شاپنگ مال میں واقع بونے کی وجہ سے ان کو اس بات کا بھی خطرہ نہیں تھا کہ کوئی انہیں فلم دیکھتا ہوا نہ پکڑ لے۔۔۔

احمد کے والد محمود صاحب گھر میں کچھ پریشان سے گھوم رہے تھے تھے احمد کی والدہ نے پوچھا کہ
“کیا بات ہے جو آپ اتنے پریشان ہو رہے ہیں کوئی بات ہوگئی ہے کیا دفتر میں کوئ مسلہ ہو گیا ہے۔۔”
” نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ایک چھوٹی سی پریشانی ہے”
“جو بھی پریشانی ہے آپ مجھے بتائیں تو سہی ۔۔شائد میں کوئ حل نکال سکوں”
“آپ نے آج میری الماری میں سے پیسے نکالے ہیں کیا ۔۔۔ دیڑھ ہزار روپے”۔؟
“نہیں میں کیوں نکالوں گی مجھےضرورت ہی نہیں ہے۔۔ آپ جو مہینے کے پیسے دیتے وہی کافی ہوتے ہیں اور جب ضرورت ہوتی ہے تو میں آپ سے پوچھ کر لیتی ہوں بغیر بتائے تو کبھی نہیں لیتی۔۔۔ کیوں کیا ہوگیا ہے؟”
“کل رات میں نے نے بجلی کے بل کے پیسے الگ کرکے الماری میں رکھے تھے اب اس میں دئڑھ ہزار روپے کم ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ یہ چار پانچ بار ہوچکا ہے کہ پیسے غائب ہو جاتے ہیں “۔۔۔
” یہ تو آپ نے عجیب بات کہی کہ پیسے کم ہوجاتے ہیں ۔۔میں آپ کو بتاؤں کہ مجھے خود بھی محسوس ہوا ہے کہ میرے بھی دو چار دفعہ کچھ پیسے کم ہوگئے ہیں لیکن میں نے اس بات پر زیادہ توجہ نہیں دی کہ یہ پیسے کہاں غائب ہو رہے ہیں۔۔۔۔”
” یہ تو بڑی تشویش کی بات ہے یہ پیسے کون چوری کر رہا ہے ہمارے بچے اور ہمارے علاوہ گھر میں کوئی بھی نہیں ہے ایک ملازمہ آتی ہے مجھے تو پورا شک ہے کہ وہی چوری کر رہی ہے”
“نہیں نہیں ملازمہ نے چوری نہیں کی ہوگی مجھے اس کا اندازہ ہے وہ چور نہیں ہے بعض اوقات میں اسے آزما چکی ہوں وہ چوری نہیں کر سکتی”
“تو پھر کس نے چوری کی ہے تم نے ،میں نے یا ہمارے بچوں نے۔۔۔ یہ تو سیدھی سی بات ہے کہ ہم نے چوری نہیں کی تو پھر اسی ملازمہ نے چوری کی ہے اس کے علاوہ گھر میں کوئی آتا نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ غریب لوگ ہوتے ہیں ان کو پیسے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اور یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔”
“ملازمہ کے چور ہونے کا مجھے یقین تو نہیں ہے لیکن بہرحال آپ کہتے ہیں تو میں کل اس سے بات کرلوں گی۔۔”
صبح جب ملازمہ خالدہ آئ تو احمد کی امی نے اسے کہا ۔۔
“کافی مرتبہ میرے اور میرے شوہر کے پیسے چوری ہو چکے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ پیسے تم چرا رہی ہو۔۔”
نہیں نہیں بیگم صاحبہ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔مجھے کچھ ضرورت ہوتی ہے تو آپ سے مانگ لیتی ہوں۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے ۔۔ ”
“تو پھر پیسے کہاں غائب ہو رہے ہیں تم ہی بتاؤ ہمارے گھر کے علاوہ تمہی ہو جو باہر سے آتی ہو ۔۔۔ یہ اچھی بات نہیں ہے دیکھو ہم تم پر بہت اعتبار کرتے ہیں اگر تم اقرار کر لو تو ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں معاف بھی کردوں۔۔”
ملازمہ رونے لگ گئی اور روتے روتے کہنے لگی کہ۔۔۔۔
“مجھے میرے خدا کی قسم ۔۔۔ میرے بچوں کی قسم ہے میں نے چوری نہیں کی۔۔ میں چور نہیں ہوں جو چاہے مجھ سے قسم لے لیں”
“تو پھر پیسے کہاں غائب ہورہے ہیں”۔۔؟
“بیگم صاحبہ میں نے اللہ کی اور اپنے بچوں کی قسم کھائی ہے اس سے بڑی قسم تو کوئی نہیں ہوتی میں نے چوری نہیں کی ہے لیکن اگر آپ سمجھتی ہے میں نے چوری کی ہے تو جیسے آپ کی مرضی ہے جو چاہے کریں ۔۔۔ میں چور نہیں ہوں”۔۔۔۔
احمد کی امی نے اپنے شوہر کے مشورے کے مطابق ملازمہ کو ملازمت سے یہ کہتے ہوئے جواب دے دیا کہ میں تمہاری پرانی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کو اطلاع نہیں کر رہی ہوں ۔۔تم اپنا انتظام کرلو۔۔۔ ۔میں کوئ دوسری ملازمہ رکھوں گی۔۔۔۔
ملازمہ خالدہ روتی ہوئ چلی گئی۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد احمد گھر میں داخل ہوا۔۔۔جلد ہی اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کے کھلائے ہوئے گل کی وجہ سے ملازمہ کو چوری کے الزام میں نکال دیا گیا ہے۔۔۔۔اسے کچھ لمحوں کے لیئے ندامت محسوس ہوئ کہ اسکی حرکت کی وجہ سے کسی کا روزگار ختم ہوگیا یے۔۔۔پھر اس نے سوچا کہ کیا ہوا ۔۔ملازمہ کوئ دوسری نوکری ڈھونڈ لے گی۔۔۔اگلے دن اس نے یہ ساری بات کمال کو بتائ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ابھی کچھ عرصے فلم کا پروگرام ختم کرتے ہیں۔۔۔اب پیسے چرانا بہت مشکل ہے۔۔۔
اسی طرح دو تین ہفتے گزر گئے۔۔اس کی امی نے نئی ملازمہ رکھ لی تھی لیکن وہ اس کے کام سے مطمعن نہیں تھیں اور اسےفارغ کرنے کا سوچ رہی تھیں۔۔۔۔اسی نئی ملازمہ سے انہیں معلوم ہوا تھا کہ پرانی ملازمہ خالدہ کو ابھی تک دوسری جگہ کام نہیں ملا ہے۔۔ان کا گزر بہت مشکل سے ہو رہا ہے۔۔۔جبکہ اسکے بیٹے کی اسکول فیس بھی ادا نہ ہو پائ تھی۔۔
اتوار کی چھٹی کی وجہ سے آج محمود صاحب گھر میں ہی تھے اور دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر کسی کتاب کے مطالعے میں مگن تھے کہ ان کا فون بج اٹھا۔۔دوسری طرف ان کے پڑوسی مشتاق صاحب تھے جنکی اسی علاقے میں کتابوں کی دکان تھی۔۔۔۔ان کا فون سنتے ہی محمود صاحب کتاب چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بیگم کو یہ بتاتے ہوئے کہ کسی کام سے جارہاہوں جلدی آجاوں گا۔۔گھر سے نکل گئے۔۔۔۔
دو ڈھائ گھنٹے بعد ان کی واپسی ہوئ۔۔۔۔ان کی بیگم ان کا انتظار ہی کر رہی تھیں۔۔احمد بھی کمرے میں موجود تھا جبکہ اسی چھوٹی بہن لاونج میں ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
“خیریت ہے آپ کہاں گئے تھے اتنی عجلت میں؟”
“ہاں خیریت ہی ہے۔۔۔مشتاق صاحب کا فون تھا انکے ساتھ تھانے گیا تھا”۔۔۔
“تھانے۔۔۔۔۔کیوں کیا ہوا۔۔؟”
“مشتاق صاحب کے صاحب زادے اشفاق کو چھڑا کر لایا ہوں۔۔۔”
“اشفاق کو ۔۔۔۔کیا کیا اس نے ۔۔۔۔وہ تو اچھا لڑکا ہے۔۔ہمارے احمد کا ہم عمر ہے ۔۔۔اس کا تھانے میں کیا کام؟۔۔”
“میں تمہیں تفصیل سے بتاتا ہوں۔۔۔ اشفاق موبائل کارڈ چوری کرتےہوئے پکڑا گیا تھا۔۔۔موبائل مارکیٹ کے ایک دکاندار نے اسکو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔۔۔وہ تھانے میں لایا گیا تو ایک سپاہی جو اتفاق سے مشتاق صاحب کو جانتا ہے اور انہی کی دکان سے اپنے بچوں کی کتابیں خریدتا ہے نے اشفاق کو پہچان لیا اور ایس ایچ او کے علم میں لاکر مشتاق صاحب کو فون کردیا۔۔۔مشتاق صاحب نے فورا” مجھے فون کیا تو میں انکے ہمراہ تھانے چلا گیا۔۔۔وہاں ایس ایچ او اور موبائل فون کی دکان کے مالک سے درخواست کرکے اشفاق کو چھڑایا۔۔میری سرکاری حیثیت کو دیکھتے ہوئے تھانےدار نے میری شخصی ضمانت پر اشفاق کو چھوڑ دیا اور ہرچہ بھی نہیں کاٹا۔۔ورنہ بہت مسائل پیدا ہوجاتے اور مشتاق صاحب کو بہت شرمندگی اٹھانا پڑتی۔۔۔”
“اشفاق نے چوری کیوں کی وہ تو اچھا بچہ ہے۔۔۔احمد کی امی درمیان میں بول اٹھیں۔۔۔”
“ارے وہی تو بتا رہا ہوں۔۔۔ہم تھانے سے مشتاق صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔۔مشتاق صاحب نے درخواست کی میں انکے گھر چلوں۔۔۔ وہیں مزید گفتگو کرینگے۔۔۔۔اشفاق کی حالت بہت خراب تھی۔۔۔وہ رو رہا تھا۔۔وہ بہت شرمندہ تھا کہ اس کی حرکت کی وجہ سے اسکے والد کو کتنی شرمندگی اٹھانا پڑی۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم مشتاق صاحب کے گھر پہنچ گئے۔۔۔مشتاق صاحب نے اپنی بیگم کو بھی ڈرائنگ روم میں بلالیا تھا۔۔۔۔اشفاق اب بھی رو رہا تھا۔۔۔جب اس سے پوچھا گیا کہ اسے سب کچھ مئیسر ہوتے ہوئے بھی چوری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئ تو وہ زاروقطار رونے لگا اور یہی کہ رہا تھا کہ اس سے غلطی ہوگئی۔۔پھر اس نے اس بات کابھی اقرار کیا کہ وہ متعدد بار گھر سے بھی پیسے چرا چکا ہے اور دوتین مرتبہ اسی دکان سے موبائل کارڈ بھی چرا چکا ہے۔۔۔صرف اپنی موج مستی اور فضول خرچوں کو پورا کرنے کے لیئے۔۔۔۔جب اس نے یہ کہا کہ دو تین بار اسکی امی اسے چوری کرتے ہوئے پکڑ چکی ہیں تو مشتاق صاحب غصے میں اپنی بیگم پر برسنے لگے کہ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔جب چوری جیسی بری عادتوں کو نظر انداز کردیا جائے تو پھر اس کے مرتکب کو شہ مل جاتی ہے۔۔۔اب اس وجہ سے اشفاق کی ہمت بڑھ گئی کہ کچھ نہیں ہوگا۔۔مزے کرو۔۔۔۔شکر کرو کہ تھانے میں ایک سپاہی جاننے والا نکل آیا۔۔ پھر محمود صاحب کی مہربانی جنہوں نے تھانے دار اور دکاندار کو قائل کرکے اشفاق کی تھانے سے جان چھڑای۔۔ورنہ میں تو خاندان اور بازار میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔۔۔۔اشفاق کی امی بھی بہت شرمندہ تھیں۔۔۔پھر اشفاق بار بار معافی مانگ رہا تھا کہ آئندہ کبھی ایسی گندی حرکت نہیں کرےگا۔۔۔میں خود مشتاق صاحب کو سمجھا کر آیا ہوں کہ بس اب بچہ سمجھ گیا ہے اور اور شرمندہ بھی ہے ۔۔اسی لیئے اس بات کو یہیں ختم کردیا جائے اور کبھی اس کا ذکر بھی نہ ہو۔۔۔۔محمود صاحب اپنی طویل بات ختم کرتے ہوئے بولے۔۔۔۔”
“اور ہاں۔۔۔ہم بھی کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کرینگے۔۔خاص طور پر حمد آپ اس بات کا خیال رکھنا کہ کسی کو خبر نہ ہو کیونکہ کسی کے عیب پر پردہ رکھنا اللہ تعالی کو بہت پسند ہے۔۔۔”
“جی جی بالکل ہم ایسا ہی کرینگے ۔۔۔واقعی ایسا ہے کہ بچے اور بعض اوقات بڑے بھی ایسی چوری کو چوری نہیں سمجھتے کہ گھر کی ہی بات ہے۔۔چوری تھوڑی ہے۔۔۔اسی طرح عادت ہوجاتی ہے۔۔دیکھ لیں مشتاق صاحب کا بیٹا گھر کے بعد باہر بھی یہی سمجھ رہا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔لیکن پکڑا گیا۔۔۔شکر ہے اللہ تعالی نے جگ ہسائ سے بچا لیا”۔۔۔۔۔
احمد کی امی اپنے شوہر کی تائید کرتے ہوئے بولیں۔۔۔
احمد گم سم یہ سب سن کر چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا آیا..
کمرے میں آنے کے بعد اس نے ایک کتاب پڑھنے کی کوشش کی لیکن اس کا دل مطالعے میں نہیں لگ رہا تھا۔۔اس پر عجیب سے کیفیت طاری تھی۔رات کا کھانا بھی اس نے بامشکل زہر مار کیا حالانکہ اس کی پسند کی بریانی بنی ہوئی تھی۔۔وہ پھر کمرے میں چلا آیا۔ اسے رہ رہ کر اشفاق کے تھانے میں پکڑے جانے کا خیالی منظر نظر آرہا تھا۔۔۔ایسا اس کے ساتھ بھی ہوسکتا تھا۔۔اس نے سوچا کہ جب وہ گھر میں رنگے یاتھ پکڑا جاے گا اور جب اسکی جھوٹ بول کر فلم دیکھنے کی حرکت کا اس کے والدین کو علم ہوگا تو انہیں کتنا صدمہ ہوگا۔۔اس کے والدین اپنی اولاد کو ہر ممکن جائز آسائش فراہم کر رہے تھے اور دوستوں کی طرح بہت اچھے ماحول میں اولاد کی پرورش کر رہے تھے۔۔ اس کی اس حرکت کا پول کھلنے پر ان کا اعتبار ٹوٹ جائے گا۔۔۔وہ خود ان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ ۔۔اس کے دل میں خیر اور شر کی لڑائ ہو رہی تھی۔۔اسے یہ بھی خیال آیا کہ اس کی اس حرکت کی وجہ سے غریب ایماندار ملازمہ کا بغیر کسی جرم کے روزگار ختم ہوگیا یے اور اسکے بیٹے کی تعلیم کا سلسلہ بھی رک گیا ہے۔۔۔۔وہ اپنے آپ سے لڑ رہا تھا۔۔۔اس کیفیت میں کافی رات ہوچکی تھی لیکن وہ ابھی تک جاگ رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد اسے خیال آیا کہ اس نے اکثر کہانیوں میں پڑھا ہے کہ اپنی غلطی کا اقرار کرنے والے بہادر ہوتے ہیں اور انہیں معافی بھی مل جاتی ہے۔۔۔یہ خیال آتے وہ فورا” پرعزم طور پر اپنے والدین کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اسکے والدین سوچکے تھے۔۔اس نے دروازہ بجا کر انہیں اٹھایا۔۔اس کے والد بڑے پریشان تھے کہ کیا ہوا جو احمد نے اتنی رات گئے انہیں اٹھایا ہے۔۔۔اس کی والدہ بہن ابھی بھی سو رہے تھے۔۔۔احمد نے اپنے والد سے کہا کہ اسکی والدہ کو بھی بیدار کر کے اس کے کمرے میں آجائیں۔۔محمود صاحب بہت پریشان تھے کہ نہ جانے کیا ہوا ہے کیونکہ احمد کی آنکھوں میں آنسو بھی تھے۔۔۔کچھ ہی دیر بعد احمد اپنے والدین کے سامنے ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے اپنی چوری اور جھوٹ بول کر فلم دیکھنے کا اقرار کرتے ہوئے معافی مانگ رہا تھا۔۔۔اس کی امی اس کے اس اقرار پر بہت حیران تھیں۔۔محمود صاحب نے اپنے بیٹے کے آنسو صاف کئے اور گلے لگاتے ہوئے بولے۔۔”مجھے بہت خوشی ہے کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے ۔۔تمہارے ندامت کے آنسو اس کا ثبوت ہیں اور اپنے گناہ پر شرمندہ ہونا ایمان کی علامت ہے۔۔۔مجھے یقین ہے آئندہ تم کوئ غلط کام نہیں کرو گے۔۔اس کے علاوہ ایسے لوگوں سے دوستی نہیں رکھو گے جو غلط کام کی ترغیب دیں۔۔۔اب تم سکون سے سو جاو۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ احمد کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اپنی بیگم کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آئے۔۔(یہ بھی پڑھیں!کہانی ”امتحان” از : عبدالوہاب قاسمی)
احمد اب خود کو بہت سرشار محسوس کر رہا تھا اور کب وہ نیند کی وادی میں داخل ہوا اسے خبر ہی نہ ہوئ۔۔
ادھر اپنے کمرے میں محمود صاحب اپنی بیگم سے کہہ رہے تھے کہ صبح ملازمہ خالدہ کو بلوالینا اور بتادینا کہ کوئ غلط فہمی ہوگئی تھی۔۔۔اور ہاں اسے کچھ اضافی پیسے بھی تنخواہ کے علاوہ دے دینا۔۔۔چلیں اب سوجاتے ہیں۔۔۔رات کافی بیت چکی ہے۔۔صبح دفتر بھی جانا ہے۔۔۔
شب خیر۔۔

مکان نمبر 117 بلاک ڈی، لطیف آباد نمبر 10، حیدرآباد
03332617567

Previous articleقربانی نفس امارہ کی بھی دیجئے از:مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی
Next articleقربانی کی حقیقت و فضیلت ۔۔از: محمدضیاءالحق ندوی

2 COMMENTS

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here