کہانی”سچی دوستی” از جہانگیر انس

0
175

نہایت تاریک رات تھی۔ چاروں طرف خوفناک سناٹا چھا یاہوا تھا۔ اس تاریک اور خوفناک رات میں ایک سنسان پگڈنڈی پر دومسافر نہایت تیزی کے ساتھ چل رہے تھے۔ وہ شام کا اندھیرا پھیلنے کے بعد چھپتے چھپاتے شہر سے نکلے تھے۔ ایک انجانے خوف سے و ہ ڈرے او ر سہمے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر گردوغبار بھرا ہو اتھا۔ چلتے چلتے ان کے پانو میںچھالے پڑگئے تھے۔تھکاوٹ سے ان کا بدن چور چور ہو چکا تھا۔ ذراسی آہٹ پر وہ چونک اٹھتے اور اپنی رفتار تیز کردیتے… رات کے پچھلے پہر وہ ایک گھنے جنگل میں داخل ہوئے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر سستا نے لگے۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا انھیں لوری سنا نے لگی اور نیند نے انھیں اپنی گود میں لے لیا۔
صبح ہوتے ہی رات کی وہ تاریک اور سنسان پگڈنڈی گھوڑوں کی ٹاپ سے گونج اٹھی۔ رات کو اس پگڈنڈی پر دوڈرے اور سہمے ہوئے مسافر وں نے سفر کیا تھا۔ لیکن اس وقت فوجیوں کی ایک ٹولی فخر سے سینہ تانے چل رہی تھی۔ آگے آگے اس فوجی ٹولی کا کمانڈر تھا۔ کمانڈرنے ایک جگہ اپنے گھوڑے کو روک کر اپنے فوجی ساتھیوں سے کہا’’بہادرو! ہمارے جاسوس نے خبردی ہے کہ رات کو اس پگڈنڈی سے بیرم خاں گزراہے۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا آدمی بھی تھا۔ غالباً و ہ جنگل میں کہیں چھپ گئے ہیں۔ ہمیں انھیں کسی بھی قیمت پر تلاش کر کے قتل کرناہے‘‘۔
کمانڈر نے اپنی بات ختم کرکے فوجیوں کی طرف دیکھا۔ ایک فوجی نے ہمت کرکے کمانڈر سے کہا’’ہمایوں تو ہمارے شہنشاہ سے شکست کھاکر ایران بھاگ گیاہے۔ اب اس کے لیے ہندستان لوٹ کر آنا ممکن نہیں۔ تنہا بیرم خاں ہمارے شہنشاہ کا کیا بگاڑ سکتاہے کہ اسے قتل کرانے کے لیے شہنشاہ اس قدر پریشان ہیں اور ہمیں اس کے پیچھے دوڑائے پھر رہے ہیں۔‘‘
کمانڈر نے جواب دیا’’دشمن کو کبھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمایوں ایران بھاگ گیاہے۔ لیکن اس کے بہت سے دوست اورہمدرد ہندستان میں ابھی مو جود ہیں۔ وہ کسی بھی قیمت پر ہمایوں کو دوبارہ گدّی پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ بیرم خاں ان کا رہنما ہے۔ اس لیے بیرم خاں کا وجود ہمارے شہنشاہ کے لیے خطرے سے خالی نہیں۔ وہ جلد سے جلد بیرم خاں کے وجود کو مٹاکر اس خطرے سے نجات پاناچاہتے ہیں‘‘۔
صبح ہوئے ابھی دیر نہیں ہوئی تھی۔ دونوں مسافر آنے والے خطرات سے بے خبر گہری نیند سوئے ہوئے تھے اور فوجیوں کی ٹولی جنگل کا چپّہ چپّہ چھانتی پھر رہی تھی اور آخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ چند فوجیوں کی نظر درخت کے نیچے سوئے ہوئے دونوں مسافر وں پر پڑگئی۔ فوجیوں نے انھیں اپنے نرغے میں لے لیا۔ ایک فوجی کے ذریعہ کمانڈر کو اطلاع دی گئی۔ خبر ملتے ہی کمانڈر وہاں پہنچ گیا۔ سوئے ہوئے مسافروں کو جگا یا گیا ۔ اپنے سامنے شیر شاہ کے فوجیوں کو دیکھ کر دونوں مسافر اندر ہی اندر خوف سے کانپ اٹھے۔ لیکن انھوںنے اپنی پریشانی فوجیوں پر ظاہر نہیں ہونے دی۔
کمانڈر نے ڈپٹ کر پوچھا’’تم لوگ کو ن ہو؟ اور اس جنگل میں کیوں سوئے ہوئے ہو‘‘؟
دونوں مسافروں میں سے ایک نے جواب دیا ’’ہم لوگ مسافر ہیں اور گجرات کے راستے مکہ جارہے ہیں۔ تھکاوٹ اور رات ہو جانے کی وجہ سے یہاں سوگئے ہیں‘‘۔
کمانڈر نے پھر پوچھا’’تم لوگ آکہاں سے رہے ہو‘‘
اسی مسافر نے جواب دیا’’بنگال سے‘‘۔
کمانڈر نے فوجیوں کو حکم دیا کہ ان کے سامان کی تلاشی لی جائے۔ مختصر سامان جو ایک تھیلے پر مشتمل تھا، کی تلاشی لی گئی تو یہ بھید کھل گیا کہ ان میں ایک بیرم خاں ہے لیکن یہ جاننا مشکل تھا کہ کون بیرم خاں ہے۔ کیونکہ شیر شاہ کے فوجی بیرم خاں کو اور نہ ہی اس کے ساتھی کو شکل سے پہچانتے تھے۔
حقیقت سامنے آچکی تھی۔ اس لیے اب مزید بہانہ بے کار تھا۔ پہلے مسافر نے ، جس نے کمانڈر کے سوالوں کا جواب دیاتھا۔ کہا’’میں بیرم خاں ہوں، فر مائیے کیا حکم ہے‘‘۔
کمانڈر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی دوسرا مسافر بے تابی سے بولا’’نہیں جناب یہ غلط کہہ رہاہے۔ بیرم خاں میں ہوں۔ یہ آدمی میرا دوست ہے اور میری جان بچانے کے لیے خود کو بیرم خاں کہہ رہا ہے۔‘‘
دونوں مسافر خود کو بیرم خاں ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔کمانڈر اور فوجی حیرت سے دونوں مسافر وں کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ آخر اس میں کون اصل بیرم خاں ہے اور کیوں دونوں مسافر خود کو بیرم خاں کہہ رہے ہیں۔
کافی غور و فکر کے بعد کمانڈر نے ایک مسافر کو آگے بلا یا اور ایک فوجی کو اشارہ کیا جس نے فوراً اس کا سر قلم کر دیا۔
بچو!تم یہ جاننا چاہو گے کہ ان دونوں مسافر وں میں کون اصل بیرم خاں تھا۔تو سنو قتل ہونے والا مسافر بیرم خاں نہیں بلکہ اس کاعزیز دوست گوالیارکا حاکم ابو القاسم تھا جس نے اپنی جانِ عزیز قربان کر کے اپنے دوست کی جان بچالی او ر سچی دوستی کا حق ادا کردیا۔
سچا دوست وہی ہے جو وقت پڑنے پر، دوست کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دے۔

Previous articleبنگال میں اردو نکڑ ناٹک – ایک جائزہ از: ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی
Next articleاردو کا ارتقا اور اردو، ہندی کا رشتہ از:ڈاکٹر احمد علی جوہر

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here