“ادارہ علوم اسلامیہ “میں یوم جشن آزادی کا انعقاد

0
62

بچوں کو مجاہدین آزادی کی خدمات سے روشناس کرانے کی کوشش
ہریانہ /دہلی(پریس ریلیز)

تسخیر فاؤنڈیشن دہلی کے تحت ہریانہ میں واقع ”ادارہ علوم اسلامیہ“ میں یوم جشن آزادی کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں علاقے کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو آزادی کی اہمیت اور اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے آگاہ کیا گیا۔ تاکہ بچوں کے دلوں میں اکابرین اور مجاہدین کی عظمت بیٹھ سکے۔
اس موقع پر معاون ناظم مولانا ابواللیث ندوی نے کہا کہ مدرسے کے بوریہ نشینوں اور ملک کے دانشوروں نے جس آزادی کا خواب دیکھا تھا وہ آزادی تو ملی تاہم آج بھی آزادی کی صبح بہت سے معنوں میں داغدار ہے۔ آزادی کا صحیح مفہوم اس وقت واضح ہوگا، جب ملک کے ہر طبقے کو برابری کا احساس دلایا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا جس میں کسی بھیدبھاؤ کی فضا نہ ہو۔ مولانا ندوی نے کہا کہ ملک ترقی کی راہوں پر یقینا گامزن ہے، تاہم آزادی کے مفہوم کو وسیع کرنے کے لیے مزید سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے۔

تسخیر فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری گلاب ربانی نے کہا کہ مدارس کی خدمات کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اہل مدارس نے جنگ آزادی میں بھی وہ کردار ادا کیا جو سنہری حرفوں میں لکھے جانے کے لائق ہے۔ اس لیے ملک میں جشن کا کوئی بھی موقع ہو، اس وقت اہل مدارس کو یاد رکھنا لازمی ہے۔ کیوں کہ دیگر دانشوروں، مجاہدوں اور مشہورشخصیات کے ذکر کے ساتھ اگر مدارس کا تذکرہ بھی ہوتو خود ہندوستان کی تاریخ پرکشش بنے گی۔ ایسا محسوس ہوگاکہ ہندوستانی کی آزادی میں بھی مشترکہ تہذیب کا مسئلہ پنہاں ہے۔

واضح رہے کہ ادارہ علوم اسلامیہ میں تقریباً ایک درجن بچے قرآن حفظ کررہے ہیں اور بے شمار بچے ناظرہ اور نورانی قاعدہ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ساتھ ہی انھیں اردو، ہندی اور انگریزی کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ یوم جشن آزادی کے موقع پر انھیں ملک کے نامور مجاہدین کے بارے چند موٹی باتیں اس طرح بتائی گئیں تا کہ وہ ذہن نشیں ہوجائیں۔ کیوں کہ ایسے پروگرام کے انعقاد کا مطلب فقط اسٹیج سجانا ہی نہیں بلکہ مجاہدین کی خدمات سے روشناس کرانا بھی ہے۔ اس لیے ادارہ علوم اسلامیہ میں تمام تر فروعات سے قطع نظر بچوں کو آزادی کے لیے شہید ہوجانے والوں کی خدمات سے واقف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Previous articleجنگ آزادی میں اردو زبان کاا ہم اور نمایاں کردار از: رازدان شاہد،(گیا بہار)
Next article’’ سلام‘‘ از: سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here