“اختر ستان ” از: توصیف الحسن میواتی

0
8

اختر شیرانی اپنی تخلیقات کی گوناگوں خصوصایت کی بنا پر اپنے عہد میں مقبول ہوئے اور آج بھی ان کا کلام خصوصا نظمیں دلچسپی سے پڑھی جاتی ہیں۔اختر کی شاعری میں اگرچہ رومانیت کی تمام خصوصیات نہیں ملتیں لیکن جوش و جذبہ فطرت سے لگاؤ ،عشق و محبت اور خیال آرائی وغیرہ خوبیوں سے ان کا کلام متصف ہے۔

زیر نظر “اخترستان” ان کی نظموں پر مشتمل مجموعہ ہے۔جس میں چہرہ نما، جمال سلمیٰ ،نغمہء زندگی، شاعر کی تربت، سلام کا جواب، سرزمین سے عشق، دعا ، اندر سبھا میں،وادیء گنگا میں ایک رات، عشق وآزادی وغیرہ متنوع موضوعات کااحاطہ کرتی خوبصورت نظمیں موجود ہیں۔شاعری کو اختر شیرانی کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ انھوں نے اپنی نظموں میں محبوبہ کے طور پر عورت کا ذکر تانیثی صیغے میں کیا اور اردو شاعری کو متعدد نسوانی کرداروں سے متعارف کرایا۔ان کی نظموں میں جہاں تخیل اور جذبات کی فروانی ملتی ہے وہیں اپنے عہد کے مسائل کا تذکرہ بھی شدت سے ملتا ہے۔انھوں نے وطن دوستی،قوم پرستی اور فطرت نگاری پر بھی توجہ دی ہے۔

ان کی نظمیں سبک وشریں الفاظ کے استعمال سے موسیقت اور غنائیت پیدا کرتی ،دلکش تراکیب، تشبیہات ،عمدہ منظر نگاری، پیکر تراشی کی وجہ سے موثر اور کامیاب ہیں۔نئی تراکیب وضع کرنے اور انھیں سلیقے سے نظموں میں استعمال کرنے کے ہنر سے بھی اختر بخوبی واقف ہیں۔پیش نظر کتاب ان کی مذکورہ شاعرانہ خصوصیتوں کی عمدہ مثال ہے

Previous articleخان محبوب طرزی : ایک جائزہ۔از: ایس ایم حسینی
Next articleکن شہروں میں سستا ہوا گیس سلنڈر،آپ کا شہر بھی ہوسکتا ہے شامل!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here