اخترے کہ من دیدم ؎ جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

0
32

ڈاکٹرراحتؔ مظاہری،قاسمی.

حضرت مولانامحمداخترصاحب مرحوم کی وفات حسرت آیات پران کی شخصیت ،ذات والاصفا ت ا وراوصاف جمیلہ پر اہل قلم اپنے اپنے تاثرات وتعزیات کا اظہارکررہے ہیں،مگرمیری مجبوری یہ ہے کہ میری ملاقات حضرت مرحوم کے ساتھ چندگھنٹوںیادوچارغیررسمی ملاقاتوں سے زیادہ نہیں ،اسلئے مجھ جیسے کسی اجنبی،کم شناس اوربے حس کو آدمی کوایک ایسی مقبول عوام وخواص ذات گرامی پر کچھ لکھناکارے دارد کی قبیل سے ہے۔
مگرپھربھی میرے ذہن اوردل دماغ پر ان کی جوتصویر،کردارونقش ہے اسی کولے کر عجوزہ ٔ مصرکی طرح مرحوم کے تذکرہ نویسوں کی فہرست میں شمولیت کی خاطر چندسطریں لکھنے کاداعیہ رکھتاہوں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے اس شریف النفس،سادہ لوح، منکسرالمزاج ،خاموش طبع بندے کے چہرۂ انورکی زیارت میں کتناسکون وطمانیت رکھاتھااگرکسی کواس کی حسرت وتمنا ہوتو وہ میری آنکھوںسے اس وقت کے منظر کو دیکھے کہ جب 1980 میںاحقرمادرعلمی جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور سے اپنے مشفق، مربی ،استاذی وسیدی حضرت الحاج مولانامحمدیونس قاسمی حفظہ اللہ کے والدماجد، ایک مردِ صالح، حضرت حافظ عبداللطیف(سقی اللہ ثراہ، وجعل الجنۃ مثواہٗ)متوسّل حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی قدس سرہ ،کے جنازے میں شرکت کے لئے ’مغل مزرعہ،گیاہواتھا، چونکہ حافظ صاحب مرحوم نہایت متقی، پابند شرع،علم کے شیدائی اورعلمانوازتھے،لہٰذا علاقہ کے دینی ،مرکزی ادارہ جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے مخصوص بہی خواہوں میںبھی شامل تھے،اس لئے مدرسہ کاایک وفدتعزیت کے لئے تدفین کے اگلے روزان کے دولت کدہ پر واردہوا،جس کی قیادت حضرت مولانامحمداخترصاحب فرمارہے تھے، تب ا س وقت تعار ف ہوا کہ آپ مولانامحمداخترصاحب مہتمم جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ ہیں،یہ تھا میرے لئے آپ کی پہلی زیارت کاموقع۔

اس کے بعد جامعہ کے فرزندقدیم ،مفسرقرآن ،محبی ،حضرت مولاناممتازاحمدقاسمی قبلہ،خطیب جامع مسجد گھونڈہ دہلی، کے توسط سے دویاتین ملاقاتیں دہلی میں اورآخری ملاقات مادرعلمی جامعہ مظاہرعلوم حضرت مولاناسیدمحمدشاہدمظاہری( امین عام مظاہرعلوم سہارنپور،زیدشرفہ) کی تصنیف ’’جنگ آزادی میں علمائےمظاہرعلوم کاکردار، کی رسم اجراکے موقع پردسترخوان پر رسمی دعاسلام ، جس میںحضرت نے مجھ کومیرے رفقائے سفرعزیزی مفتی ذکاوت حسین، قاسمی،(شیخ الحدیث ومفتی مدرسہ امینیہ دہلی،صدرمفتی دہلی وقف بورڈ،نائب امیرشریعت دہلی)عزیزی مفتی محمدطیب(مفتی مدرسہ امینیہ دہلی،نائب مفتی دہلی وقف بورڈ وحضرت مولانامحمداکرام اللہؒ سابق استاذحدیث مدرسہ امینیہ دہلی وغیرہم) کو اپنے جامعہ چلنے کی دعوت دی، مگرسفرمیںسفرمشکل ہے اس لئے معذرت کرلی۔ ؎ بساآرزوکہ خاک شدہ۔
آگے بڑھنے سے پہلے میںیہ بھی عرض کرتاچلوںکہ حضرت مولانامحمداخترصاحبؒ کا سب سے نمایاں وصف ان کی خاموشی، خاموشی،حسن انتظام اورچہرے،مہرے کی شرافت ومروت تھی،اس لئے مجلس میں مہمان ومیزبان تمام ہی شرکائے مجلس بے تکلف بول رہے ہیں مگرمہتمم صاحب بالکل خاموش ،جیساکہ شیخ سعدی نے گلستاں میں ایک عقل مندوزیرکاواقعہ بیان کیاہے کہ اس کی خاموشی اورکم گوئی پر حاسدوزیراپنے بغض وعناد کی وجہ سے بادشاہ کے دربامیںاس کی چغل خوری پر مجبورہوگئے، جب بادشاہ نےا س کو طلب کرکے خاموشی کا راز جانناچاہا،توا س نے دست بستہ عرض کیا:حضور! اگرمیرے پیش رونے کوئی بات اچھی کہی ہے توپھرمیری گفتگوچہ معنیٰ دارد؟اوراگرخود میری رائے ہی ناقص ثابت ہوئی توپھرکیاہوگا؟اس لئے خاموشی ہی بہترہے،تواسی طرح کی حضرت کامزاج بھی رہا ،مگرہاں!ناقلین کے بیان کے مطابق جب مدرسہ کے معاملات وانتظامی امور کی بات ہوتوپھراس میں کوئی رعایت کاکوئی خانہ نہیں ،اسی کے ساتھ عوام وخواص ہرایک کے ساتھ گہراتعلق بھی ۔

جیساکہ مدرسہ کے حالات پر نظررکھنےوالے شاہدہیں کہآپ ایک بہترین مدبر،مہتمم اورمنتظم ثابت ہوئےکہ آپ کوعلاقےکےمعزز،صاحبِ حیثیت،حسن انتظام کے لئے مشہور مدرسہ ہٰذا کےدوبڑے سابق مہتمموںحضرت مولاناحشمت علی اورحضرت مولانامحمدعمررحمت اللہ علیھماکی سبکدوشی کے نتیجے میںاہتمام کے خالی ہونے پر نظم ونسق کی باگ ڈور سونپی گئی تھی،چونکہ دونوںپیش روبزرگوںاور مجلس شوریٰ کے درمیان لمبی کشمش جوکہ طشت ازبام تھی، اس وقت نئے مہتمم کے لئے مہتمم کایہ عہدہ کسی کانٹوںبھرے تاج سے کم نہ تھا، نیزاس وقت آپ کاشمارجامعہ کے بڑے مدرسین میں بھی نہیں تھا،لہٰذاآپ اس نئے عہدہ کو قبول کرنے کے لئے ہرگزآمادہ نہ تھے،مگرمدرسہ کے تمام خیرخواہوں، معزز اہل علاقہ،اوربالخصوص حضرت مولانامحمداصغرقدس سرہ وغیرہ نے آپ کو اپنے ہرممکن تعاون کی امید دلائی جس پر آپ راضی ہوگئے، مگرایک باربیچ میں ایک لاواپکا،اس جس میں تیزقسم کااُپھان آیا، آپ نے حالات سے بد دل ہوکرہجرت کاقصد کیاجس کے نتیجے میںمدرسہ امدادیہ مرادآبادمیںنائب مہتمم کےعہدہ پرتقررہوگیامگر اہل علاقہ اور انتظامیہ نے اس کو کینسل کرادیا،اورپھر آپ تادم آخر اسی جامعہ کی خدمت میں لگے رہے، جوان کو جان ودل سے زیادہ عزیزترتھا۔

میں نے شروع میں عرض کیاتھا کہ’’ حضرت مولانامحمداخترصاحب کا سب سے نمایاں وصف ان کی گہری خاموشی،حسن انتظام اورچہرے،مہرے کی شرافت تھی،،مگریاد رکھیں کہ سکوت ، خاموشی اور زبان پر اس قسم کاکنٹرول وہی کرسکتاہے جوکہ محسن اخلاق کریمہ حضرت محمدﷺ کی مندرجہ ذیل احادیث پر عامل ہو۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے ،ورنہ خاموش رہے۔
حضرت مام شافعی کاقول ہے کہ چار باتوں سے عقل میں اضافہ ہوتا ہے ۔(۱) فضولیات سے اجتناب (۲) مسواک کا اہتمام (۳)صالحین کی صحبت (۴) علماء سے تعلق۔
اسی طرح صالحین کی صحبت کے حوالہ سے ’’حماد بن واقد کایہ قول بھی آب زرسے لکھنے لائق ہے[ ایک روز میں حضرت مالک بن دینارؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا وہ تنہا بیٹھے ہیں اور ان کے پاس ایک کتّابیٹھا ہوا ہے ، میں اسے ہٹانے لگا تو فرمایا : چھوڑو ، یہ بُرے ہم نشین سے بہتر ہے ، یہ مجھے تکلیف نہیں دیتا ]
بہرحال !موت ایک زندہ حقیقت ہے ،زندگی فانی ہے، لیکن ایسے صالحین کی موت بھی یقیناََقابل رشک ہے جن کے دنیاسے جانے کے بعد ان کو بھلائی کے ساتھ یادکیاجائے۔
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
(جون ایلیا)
آخرمیں میری دلی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کوجنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام ، ان کے بچوںکوصبرجمیل کے ساتھ اپنے والدمرحوم کے اوصاف وعادات حمیدہ کاخوشہ چیں، نیزادارہ کوان کا نعم البدل بخشے۔

مضمون نگار سہ ماہی رسالہ ’دعوت وتبلیغ، دہلی کے مدیراعلیٰ
و’مولاناآزادایجوکیشنل اینڈمیڈیکل آرگنائزیشن، دہلی کے جنرل سکریٹری ہیں

Previous articleدھرم سنسد میں زہر آلود بیان بازی کے معاملہ میں پہلی گرفتاری
Next articleفکرِ انقلاب جلد دوم کا دیوبند میں ممتاز علما کے ہاتھوں مثالی اجرا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here