احمد رشید کاافسانہ : “کھوکھلی کگر”ایک تجزیہ از:نثارانجم

0
67

کا فر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق

اس شعر کو یہاں اس لیے بھی کوڈ کیا کہہ سکوں اس شعر کی تشریح کرنی ہے تو بس افسانہ *کھوکھلی کگر* زحمت سے بچ جائیں گے…..
اس افسانے کا تھیم اس کا اقتباس اور اس کا خلاصہ ہے جس میں افسانہ نگار نے جان ڈال دی ہے……فلسفہ حسن کی رعنائیوں کے تناظر میں اس کائناتی دلہن کو دیکھنے کی بھر پور کوشش ہےاور اسی دیدنی کے گرد اس کا تانابانا بناگیا ہے……

“کائنات کا حسن و جمال فانی ہے تو لافانی ہے تیرا کمال و جمال لافانی ہے۔ زندگی کی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگرپر اٹھائی میرے اندر بلندحالت پر پہنچنے کی فطری پیاس نے تو نس کی صورت اختیار کرلی۔”*
اگر آدمی کا جب مشاہدہ گہرا اور بیان پر دسترس ہو تو اس طرح کا خوبصورت افسانہ وجود میں آتا ہے….

تو افسانہ نگار سورج کا باکرے پن سے وہ بیک وقت وہ بہت ساری باتیں کہہ جاتا ہے…..
“بے شک جسد ِآب و گلِ ماں کی طرح طاہر، ممتا کی طرح پاکیزہ ہے لیکن سطح آب سے تہِ آب کا سفر کرو تو کائنات کے اس اندھیرے سے واقف ہوجاؤگے جو طوفان کی مانند سیاہ اور تباہ کن ہے۔‘‘
۔افسانوں میں پیش کیا جانے والا منظر واقعات ساری چیزیں افسانے سے جدا نہیں ہے…. وہ بظاہر الگ نظر آتی ہیں لیکن وہ افسانے سے افسانہ نگار کی فکر کا احاطہ کۓ ہوۓ ہوتی ہیں اور ان سے ارتباط کرتی ہیں۔یہی احمد رشید کے افسانہ کی کرافٹ کی خوبی ہے……
میں نے افسانے کے چار قرات کے بعد بھی اس پر لکھتے ہوۓ محسوس کیا کہ کہ اس افسانے کے ساتھ کچھ دنوں تک جیا جاۓ ہر ایک جملے میں چھپی معانی کی دنیا میں غوطے لگایا جائے ۔مجھے لگتا ہے کہ افسانے کے ایک ایک جملے لکھتے وقت افسانہ نگار کے فکری کینوس پر فلسفہ ,مذہب ,نفسیات اور سماجیات مشاہدے کی صورت میں موجود تھا۔
“تمہاری نظروں کا کمال ہے۔۔۔ ورنہ جمال اور بے جمال میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔‘‘

“اگر میرا ذرّہ برابر بھی کچھ ہوتا تو میں دائم خوب صورت ہوتی ”
آئن سٹائن Theory of relativity میں کہتا ہے کہ کائنات میں جو بھی چیز ہماری آنکھوں کے سامنے آتی ہے وہ ضروری نہیں کہ وہی چیز ہو جو ہم دیکھ رہے ہیں اور مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ نظر آنے والی چیز نگاہ، فاصلے اور زاویے کی محتاج ہے…. بہت سے ایسے حقائق ہیں جہاں تک ہماری رسائی نہیں جن unknown elements سے ہم ناواقف ہیں ۔علم کے ایک ذرائع سے حاصل ہونے والے نتیجہ پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا جاسکتا۔
تبصرہ لکھتے وقت آئن اسٹائن کے فاصلے ,زاویۓ اور نامعلوم عوامل تھیوری ذہن میں رہی اور افسانے کا فلسفیانہ معرفتی انداذ بھی…..
یہ خدشہ بھی فکر پر سوار رہا کہ کہیں میری عجلت لا ابالی پن سے کوئی ایسا لفظ یا جملہ میرے تبصرے میں در نہ آۓ جو احمد رشید کے اس افسانہ کی اصل soul ہی کو damage کر دے……!!!!!
ملٹی ڈائمنشنل پرت در پرت والا یہ افسانہ ہے جو فکر کی الگ الگ پرتوں کے معانی افشان کرتا ہے۔ہر جملہ قاری کو لمحے بھر کے لۓ اپنے ساتھ باندھ لیتا ہے اور ری ریڈینگ پر اکسا تا ہے پھر مبہوت کرتا ہے……. شاید یہ استعجاب فکر pause ہے……
افسانہ ،افسانے کا راوی اور افسانہ نگار یہاں سبھی sensitive ہیں….. افسانے کے انداذ و بیان میں ایک مربوط ربط کےساتھphilosophical اپروچ کو لفظوں کی چاشنی میں ادبی گھلاؤٹ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔احمد رشید بہت اچھی کرافٹ میں لکھتے ہیں۔یہ فکری سطح پر ایک دنیا کے ساتھ ساتھ دوسری دنیا کو بھی لے کر چلتے ہیں ۔ان کا کردار دنیا ہے اور اس کردار کے اندر ایک اور دنیا فلسفے کی چلتی ہے.. *کھوکھلی کگر* کے راہ گیر بھی ہیں……
مذہب کا سنہرا اور مطہرہ راستہ بھی ہے…..
اس راستے کے ساتھ ایک متوازی راستہ بھی کرداروں کے ساتھ موجود ھے……
“مہاراج پرماتما کی تلاش میں لوگ راج پاٹ چھوڑ دیتے ہیں، لیکن میرے پاس چھوڑنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا۔”
’’غم تو چھوڑنے اور چھوٹنے پر ہوتاہے۔”
یہاں اشاروں علامتوں اور ابہام کی دنیا بھی ساتھ چلتی ہے۔
فلسفہ جمالیات, فلسفہ حسن وعشق ,فلسفہ رنج والم اور خواہشوں کے فلسفے بھی اگۓ ہیں۔بہت ساری باتوں کی طرف ان کی کہانی اپنے زاویہ فکر منکشف کرتی رہتی ہے اور قاری کو بہت جگہ لے کر جاتی ہے۔ قاری کی اپنی پسند علم کے مطابق کہانی ہاتھ پکڑے چل پڑتی ہے۔ لیکن ایک بات ہے کہ بھٹکنے نہ دیتی۔ شرط یہ ہےکہ انکا قاری علمی استبداد میں اتنی طاقت رکھتاہو کہ کہی ہوئی بات سے communicate کر جاۓ اور افسانہ نگار کے ساتھ فکر کے پڑاؤ پر ٹہرتا رہے۔یہاں قاری سے مراد ادب کا وہ قاری جو خالص اور سنجیدہ قاری ہے ۔عام قاری نہیں جو روایتی اور stunt کہانی پڑھنے کا عادی ہو۔
گہرائی اور گیرائی ان کے افسانوں میں سنجیدہ قاری کے لۓ بکھرے پڑے ہیں۔اسی کی بنیاد پر کہا جاسکتاہے انکے افسانوی چوپال پر ادب کے وہ مخصوص قاری ملتے ہیں ۔اور ان کے افسانے ادب کے مخصوص لوگوں کے لۓ ہی ہیں…..!!!!!
میری مراد کہانی کے پس منظر سے واقفیت ہے……..
*”تمہارے بھیتر اگر پریم کی چنگاری موجود ہوتی تو میں اسے آگ میں بدل سکتا تھا۔”*
عشق کی وارفتگی بہت معنی رکھتی ہے ۔اگر عشق آدمی کے دل میں نہ ہو تو آدمی خالی ہے۔اللہ کی معرفت میں بھی عشق ایک راستہ ہے وہ عشق کے ذریعہ ہی وہاں تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی پھول کی خوبصورتی بھی آپ کو دیکھنی ہو آپ کے اندر اس کے حسن کا ایک کا احساس اور Aesthetic asset ایک نکھرے اور سنورے ہوۓ شعوری انہماک کے ساتھ باطن میں ہونا چاہیۓ۔
اگر آپ کے پاس نہیں ہے پھر آپ کیا ہیں؟!!!!!!
اپ کھوکھلے ہیں…..!!! آپ اپنے کو عمل تنفس سے آزاد کردیں تو باقی……جو رہے گا وہ ایک مشین سے زیادہ کچھ نہیں ہے….!!!!
آدمی مسکراتا ہے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں یہ کب ہوتا ہے یہ احساس کی وجہ سے ہوتا ہے اگر احساس مر جاۓ تو آدمی سپاٹ ہو جاتا ہے۔
اب یہاں دیکھیں کس کے احساسات بہت زیادہ اچھے ہیں….
جو عشق کرتا ہے اپنی زندگی سے۔۔۔
اپنے کاموں سے۔۔۔۔۔
اپنے Cause سے۔۔۔۔
وہی آدمی بہت sensitive ہوتا ہے…..
یہاں sensitivity کی اس کیفیت کو افسانہ نگار نے فلسفہ اور معرفت کے باریک اور تہدار معنوی پرت کو افسانے کے روم روم میں احساس کے گھلاوٹ کے ساتھ انڈیل دیا ہے…..
افسانے کا تھیم مادی مسرت سے روحانی مسرت کی طرف مراجعت کا فلسفیانہ بیان ہے۔
حسن عشق مسرت اطمینان abstract ہیں انکا مادی وجود نہیں ہے۔ ایک احساس ہے جو فرد کے اپنے اندر کے حسن کے احساس کا اظہار ہے
روحانی مسرت کو activate کرنے کا نظام اس احساس سے جڑا ہوا ہے جو divine ہے ۔روحانی مسرت زندگی کو اس صبر اور قناعت والی کیفیت پیدا کرتی ہے جبکہ مادیت یہاں ایک مشینی مسرت ہے جواسے اپنی ذات سے اوپر اٹھنے نھیں دیتی۔یہ روحانیت کا ہی جوہر ہےاور اس کی معرفت کی وہ supreme کشش ہے جس کی بدولت انسان مادیت کی اس خوبصورت پھندے اور اور حسن بلا کی جکڑ بندیوں سے باہر أ تاہے ۔
*”اگر تیری محبت میں نے اوڑھ لی تو میرے پاؤں ننگے ہوجائیںگے اور سرپر اوڑھنی نہ رہے گی۔ میںنے ننگ و نام ہوجاؤںگی۔*
أج قلوپطرہ کا ئنات بے لباس اپنی جاذبیت کے ساتھ اسکے سامنے کھڑی ہے جس کا وہ رسیا تھا طلب گار تھا ۔وہ اس سے پیچھے بھاگتی تھی۔
*”کائنات اپنے حسن و جمال میں گرفتار کرتی ہے اور اپنی بے رخی سے اپنے وصال کے خواہش مندوں کو ہلاک کرتی ہے۔ یہ اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے۔۔۔*
اور وہ اس بلندی کو چھو لینے کا متلاشی تھا۔اج روحانیت کے جلال میں حسن مادیت راکھ ہوچکی ہے ۔
یہاں افسانہ نگار نے اسی مادیت کو chase کرتی اسی زندگی کو فکر کا
موضوع بنایا ہے۔ ایک سم قاتل جس کے جنوں میں انسان اپنے باطنی مسرت کو کھو دیتا ہے۔
اس مادی دنیا کی لفظی تصویر دیکھیں ۔مادی فلسفہ اپنے بول وبراز کے ساتھ ان کے افسانوں میں کس طرح روحانیت کے راستے کا پتھر ہے۔یہ مادی تصویر عرفان ذات کے بعد راوی کے فکری کینوس پر ابھر کر أیا ہے۔
“حیض و نفاس، بول و براز سے آلودہ یہ کائنات جس کی تخلیق گندے قطرے سے ہوئی تولد سے پہلے غلیظ کھانا، پھربھی اس کا کیوں دیوانہ ہوا؟ لعنت اس کائنات پر! اس نے کائنات سے اپنے پروں کو سمیٹ لیا اور آمادۂ سفر ہوا۔۔۔

ایسے مقام کی تلاش میں جہاں قلب کو سکینہ، دل کو راحت اور روح کو طہارت نصیب ہو۔۔۔ اس نے کائنات کو پیچھے چھوڑ دیا۔ گیان حاصل کرکے دھیان کے راستے نکل آیا۔۔۔
روحانیت ہی اس کائنات حیات کی اصل روح ہے ۔مالک حقیقی کی طرف سے ودیعت کی گئ وہ purity جسے انذار catherise سے impure ہونے سے بچاۓ رکھنے کا ایک محتاط رویہ ہے۔
جو مالک حقیقی سے فطری بونڈنگ کے طور پر دعائیہ کلمات کی صورت میں روح پر جاری ہوجا تے ہیں۔جو تزکیہ نفس کے خوگر اور معرفت کے تمنائی ہیں۔
“اے معبود! کائنات کو بہت پیچھے چھوڑ آیا ہوں۔ یہ غلطی ہے میری، رحم کر، درگزر کردے۔ اے مالک جس بار کو اُٹھانے کی طاقت نہیں ہے وہ ہم پر نہ رکھ، ہمارے ساتھ نرمی کر۔ اے پروردگار اپنے خزانۂ فیض سے رحمت عطاکرکہ توہی فیاضِ حقیقی ہے۔ رہبرِمعتبر جب تو ہمیں سیدھے راستہ پر لگا چکاہے تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کردیجیو!۔۔۔‘
مادے کی طلب میں کھوکھلی کگر کے مسافر کا حقیقی مسرت کی طرف مراجعت کرنا ۔
“کائنات اپنے چاہنے والوں سے بھاگتی ہے، اپنے وصال کے خواہش مندوں کو ہلاک کرتی ہے۔ اس کی توجہ میں بھی آفت اور مصیبت سے امن نہیں ہے۔ ”
جہأں حرارت ایمانی میں احساس کی وہ گھلاوٹ میسر اتی ہے جس سے احساس عبودیت ہے نکھر کر اتی ھے احساس اور شعوری سطح پر بندہ ورافتگی عشق کے ساتھ معبود حقیقی کے قرب میں خود کو پاتا ہے
اللہ عزو جل کا ارشادگرامی ہے۔
وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ( القراٰن)
ترجمہ : اورجنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے۔
وَمَا یَزَالُ عَبْدِی یَتَقَرَّبُ إِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّی أُحِبَّہُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ ، وَبَصَرَہُ الَّذِی یُبْصِرُ بِہِ ، وَیَدَہُ الَّتِی یَبْطُشُ بِہَا وَرِجْلَہُ الَّتِی یَمْشِی بِہَا ، وَإِنْ سَأَلَنِی لأُعْطِیَنَّہُ ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِی لأُعِیذَنَّہُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَیْءٍ أَنَا فَاعِلُہُ تَرَدُّدِی عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ ، یَکْرَہُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَکْرَہُ مَسَائَ تَہُ .
ترجمہ:*اللہ تعالی ارشادفرماتاہے :میرابندہ نوافل کے ذریعہ مسلسل میراقرب حاصل کرتارہتاہے یہا ں تک کہ میں اس کواپنامحبوب بنالیتاہوں تب میں اسکے کان ہوجاتاہوں جس سے وہ سنتاہے ،میں اسکی آنکھ ہوجاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے ،میں اسکے ہاتھ ہوجاتاہوں جس سے وہ پکڑتاہے ،میں اس کے پیرہوجاتاہوں جس سے وہ چلتاہے اگروہ مجھ سے سوال کرے تومیں ضروربہ ضروراس کوعطاکرتاہوں اوراگروہ میری پناہ طلب کرے توضروربہ ضرورمیں اس کوپناہ دیتاہوں ۔اورمیں کسی چیزکوکرناچاہوں تو اس سے توقف نہیں کرتا،جس طرح کہ مومن کی جان لینے سے توقف کرتاہوں جبکہ وہ موت کو ناپسند کرے،اورمیں اس کوتکلیف دیناگوارہ نہیں ۔
(بخاری شریف ،کتاب الرقاق ،باب التواضع ،حدیث نمبر:6502)
مادہ کی طرف لپکنے اور مادہ کو شعار زندگی بنانے والے مادہ پرست باطنی مسرت سے دور جا پڑتے ہیں اوع حق سے غافل ہوکر ذلت کی کھائ میں جاگرتے ہیں
کائنات سے محبت دراصل مادی رغبت مادے کاحسن ہے ایک ظاہری ترقی جو راحت و آسائش کی گرین کارپیٹ green carpet زندگی کے شب وروز کے راستوں پر تان تو دیتا ہے لیکن وہ حقیقی مسرت اور کامیابی اپنے طالب کو نہیں بخشتا ۔

“مجھے معلوم ہے شراب کا نشہ عارضی، پھولوں کی خوشبو قلیل وقتی، سیاہ زلفوں کی ورشا کبھی کبھی”
مادیت عقل کے علمبرداروں کا نیا دین ہے جس سے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا ہی نئی عقلی تہذیب کا عشق اور نصب العین ہے
پھولوں کا بے رنگ نظر انا زمین کا پیروں کے نیچے سے کھینچ جانا خوبصورت مناظر کا غائب ہوجانا دل فریب سبزہ ناپید پرندوں کی مترنم چہچہاہٹ سے محروم سماعت دراصل مادی اسباب و وسائل کی لائی ہوئی وہ نفسیاتی بے اطمینانی ہے جس کے مداواہ سائنس ectacia کی گولیوں میں ڈھونڈتی ہے۔دراصل دم توڑتی مادیت کی غیر فعالیت ہے جہاں happy harmone اب مسرت کے رس خارچ کرنے سے رہ گیا ہے ۔
یہی وہ مقام اور crucial وقفہ ہے جہاں سے مادیت کی پھنکار سے ڈسا ہوا فرد روحانیت کی طرف رجوع کرتا ہےاور روحانیت اپنے مسرت اور اطمینان کے خزانے اپنے طالب پر کھولنے لگتی ہے۔
“اگر فطرت میں مداخلت ہوگئی تو کائنات کا توازن بگڑجائے گا۔ عمارتیں، صنعتیں کائنات کے خوش مناظر کو نگل جائیںگی، انسان تازہ ہواؤں سے، سورج کی روشنی سے، چاند کی چاندنی سے، بچوں کی معصوم کلکاریوں سے محروم ہوجائیںگے ”
کائنات کو حسین بنانے کی ہوڑ میں جٹی مادیت فطرت کے اصل حسن سے کھلواڑ اور نگاہوں کو خیرہ کر نے والی ظاہری ترقی کو ہی معیار حسن مان لیا گیا ھے۔ نئی عقلی تہذیب اور گاؤں کے حسن کو نگلنے والی اژدہا تہذیب کے گر د غبار میں روحانی تہذیب گدلا سی گئ ہے۔اس گدلے پن سے purity کی طرف مراجعت ہے جسے افسانہ نگار بہترین اسلوب میں پرو دیاہے۔
ایک اچھے افسانے پر مبارک باد۔(یہ بھی پڑھیں!“آخری آدمی”انتظار حسین ایک تجزیہ از:نثارانجم)

Previous articleکیا وارث اپنا حصہ دوسرے کو دے سکتا ہے؟از:ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
Next articleنیپال میں اردو ادب کا شہاب ثاقب:ڈاکٹر ثاقبؔ ہارونی از: وفا نقوی

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here