اتنی دیر میں بیربل کئی دیگ کھچڑی پکا چکا ہوتا از : سید فضیل احمد ناصری

0
110

_امارتِ شرعیہ کے موجودہ حالات پر بے لاگ تحریر_

امارتِ شرعیہ سے جیسی خبریں آئے دن مل رہی ہیں، بے حد تشویشناک اور روح فرسا ہیں۔ میں نے اس موضوع پر لکھے گئے اپنے پہلے ہی مضمون میں کہا تھا کہ امارت کا معاملہ جتنا الجھایا جا رہا ہے، اس سے ملت کا یہ عظیم الشان ادارہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ اس کے بھی پرزے پرزے اڑ جائیں گے۔ اس کا وجود باقی نہ رہے گا، لیکن امارت پر حاوی لوگوں نے ان گزارشات کا کوئی نوٹس نہیں لیا، چناں چہ امارت رفتہ رفتہ تقسیم کے راستے پر چل پڑی۔ جھارکھنڈ نے اپنی علیحدہ امارت کے اعلان کی دھمکی دے ڈالی اور دوسرے خطے سے بھی علیحدگی کی آوازیں اٹھنے لگیں۔ پھر بہت سی قیامتیں اس پر گزریں، مگر بعد از خرابئ بسیار شوریٰ کے معزز اراکین نے انتخاب کی لگام اپنے ہاتھ میں لی اور ایسا لگا کہ کام بہ آسانی ہو جائے گا۔

بے تکلف عرض ہے کہ اس پورے معاملے میں شوریٰ سے کوتاہی ہوئی ہے۔ جب دیکھا جا رہا تھا اور بار بار تجربہ کیا جا چکا تھا کہ انتخابِ امیر کی شفافیت کا دعویٰ محض ڈھول کا پول ہے اور اس میں صداقت کی کوئی بو باس موجود نہیں، اس کے باوجود بھی شوریٰ والے مطمئن بیٹھے رہے، انہیں تو یہ معاملہ اسی وقت اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہیے تھا جب ایک خاص شخص کو امیر بنانے کے لیے دستخطی مہم چوری چھپے چھیڑی گئی تھی۔ اس وقت آنکھ نہیں کھلی تو اس وقت ہوشیار ہو جاتے جب گیارہ رکنی سب کمیٹی میں تمام ہی جانب داروں کو رکھ لیا گیا تھا اور غیر جانب دار ارکان اس سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ چلیے اس وقت نہیں جاگے تو کم از کم اس وقت تو بیدار ہو جانا ہی چاہیے تھا جب ہر جانب سے نائب امیر کے فرضی ہونے کی خبریں شدت سے گردش کرنے لگیں، حق یہ ہے کہ اس مسئلے کو سب سے پہلے حل کیا جانا چاہیے تھا، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا اور مولانا شمشاد رحمانی صاحب کے بارے میں قیاس آرائیاں ختم ہو جاتیں۔ اس وقت بھی تنبہ نہیں ہوا تو اس وقت تو بہر صورت زنجیرِ غفلت ٹوٹ جانی چاہیے تھی جب 8/ اگست کا بے تکا اعلان کیا گیا تھا، جو انتہائی غیر شرعی، غیر دستوری اور غیر فطری تھا۔ خالص الیکشنی انداز۔ یہ تو امارت کی خوش نصیبی تھی کہ امارت سے منسلک تمام صوبے حساس واقع ہوئے ہیں۔ انہوں نے معاملے کی حساسیت اور پل پل کروٹ بدلتی امارتی سیاست کا بر وقت ادراک کر لیا اور اپنی طاقت ور مہم کے طفیل میں 8/ اگست کی تاریخ منسوخ کرانے میں کامیاب رہے۔

جب 8/ اگست کی تاریخ منسوخ ہو گئی تو سوشل میڈیا کی گرم جوشی بیٹھ گئی۔ لوگ یہ سوچ کر خاموش ہو گئے کہ اب جو ہوگا، بہتر ہوگا، لیکن میں سمجھ چکا تھا کہ یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی آمد کا پیش خیمہ ہے۔ جب سمندر میں کسی بڑی طغیانی کو آنا ہوتا ہے تو اس سے پہلے سمندر کی لہروں پر ایک ہیبت ناک سکوت اور سناٹا چھایا رہتا ہے۔ میرا خدشہ صحیح نکلا۔ اب طوفانوں کا ایک ہجوم امارت پر دھاوا بول چکا ہے اور صورتِ حال یہ ہے کہ امارت میدانِ جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ رگڑے ہیں۔ جھگڑے ہیں۔ گالی گلوج ہے۔ دھکا مکی ہے۔ مار دھاڑ ہے۔ لعنت ملامت ہے۔

دستورِ امارت کے مطابق اگر نائب امیر اصل امیر کے انتقال کے بعد تین ماہ کے اندر اندر انتخاب کرانے میں کامیاب نہیں ہو پاتا تو یہ حق شوریٰ کے ہاتھ میں از خود چلا جاتا ہے اور نائب امیر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔ مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات کو جب تین ماہ سے زائد گزر گئے اور ذمہ داران امارت کی جانب سے انتخابِ امیر کے سلسلے میں کوئی ہلچل دیکھی نہیں گئی تو شوریٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور 10 اکتوبر 2021 کی تاریخ کا اعلان کر دیا، جس میں بتایا گیا کہ یہ انتخاب امارت کے المعہد العالی کے احاطے میں ہوگا اور بطورِ مشاہد اس میں شرکت کے لیے ملک کی اہم شخصیات بھی مدعو کی جائیں گی۔ یہ بڑا ہی زبردست اور خوب صورت فیصلہ تھا۔ اس اعلان کی ہر اس شخص نے تائید کی جو اس تاریخی ادارے کو ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچانا چاہتا ہے، مگر مولانا شمشاد صاحب نے اس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اس اعلان کی کوئی اہمیت نہیں اور اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا، اللہ جانے اس اعلان کے پیچھے ان کی منشا کیا تھی؟ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ امارت کے بہی خواہوں میں ہیں۔ لیکن پھر افہام و تفہیم کے بعد انہوں نے اس اعلان کی حمایت کر دی۔ امارتِ شرعیہ کے لیٹر پیڈ پر اس اعلان کی تائید بھی کی گئی۔ اجلاس کی تیاریاں زور و شور سے چلنے لگیں۔ اربابِ حل و عقد کے نام دعوت نامے جاری ہو گئے۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک انداز میں چل ہی رہا تھا کہ اچانک فہد رحمانی اور ان کے ساتھ شامل چند ارکانِ شوریٰ نے 9 اکتوبر 2021 میں ہی انتخابِ امیر کا اعلان کر ڈالا اور یہ تفصیل بھی دی کہ انتخاب کا یہ اجلاس مسجد خدیجۃ الکبریٰ سمن پورہ میں ہوگا۔ میں نے یہی سمجھا اور بجا طور پر امارت کے تقریباً تمام چاہنے والوں نے بھی یہی سمجھا کہ یہ اعلان صرف اور صرف اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ انجینئر فیصل رحمانی صاحب کو اپنا امیر بنا دیا جائے گا، جس کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی، نہ عرفی۔ مگر حیرت ہے کہ مولانا شمشاد رحمانی صاحب نے اس اعلان کو اہمیت دے دی اور یہ نکتہ پیش کرنے لگے کہ دونوں ہی طرف ارکانِ شوریٰ ہیں۔ دونوں ہمارے محترم ہیں۔ امارت ٹوٹنی نہیں چاہیے، اس لیے ہم دونوں میں مصالحت کریں گے اور کسی ایک تاریخ پر اتفاق کر لیں گے، لیکن انہوں نے ایک ایسے کام کے بیڑا اٹھانے کا اعلان کیا جو بحالتِ موجودہ ممکن ہی نہیں، محال ہے، کیوں کہ رحمانی گروپ بہر صورت فیصل صاحب کو امیر دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کسی بھی پستی تک اترنے کو تیار ہے۔

ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ مولانا شمشاد رحمانی صاحب نے بغیر کسی سابقہ اطلاع کے 30 / ستمبر 2021 کو شوریٰ کی میٹنگ بلانے کا اعلان کر دیا، جو بحالتِ موجودہ کسی بھی طرح درست نہیں تھا۔ اس سے مولانا پر جانب داری کا شبہ ہوتا ہے، اگرچہ ان کی ایسی کوئی نیت نہ ہو۔ اتقوا مواضع التہم۔ ابھی تو مولانا کو چاہیے تھا کہ 10/ اکتوبر کے اعلان کا بہر حال احترام کرتے اور انتخابِ امیر کے مراحل میں شوریٰ کا ہاتھ بٹاتے، کیوں کہ شوریٰ کے یہ اراکین نصف سے زیادہ تعداد میں ہیں، مگر افسوس کہ مولانا ہی کشمکش کی کیفیت میں ہیں اور تذبذب کا زلزلہ انہیں سکون نہیں دے رہا ہے۔ وہ دونوں فریق کو خوش کرنے کے چکر میں اپنے کو بڑی حد تک ضائع کر چکے اور رہی سہی عزت بھی پامال کر رہے ہیں۔ ان پر ظلم دھانے والوں میں وہ لوگ بھی ہیں جو بغیر سوچے سمجھے مولانا کے اس اعلان کو تاریخی بتا رہے ہیں، جب کہ یہ موقع صرف 10/ اکتوبر کے اعلان کی تائید کا ہے، نہ کہ کسی نئے خلفشار کو بے سبب جنم دینے کا۔

کل یعنی 26 ستمبر 2021 کو امارت میں جو کچھ ہوا، وہ امارت کی تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین باب ہے۔ کچھ لوگ فہد رحمانی کے ساتھ امارت میں داخل ہوئے اور ہر طرف ہاہاکار مچ گئی۔ شوریٰ کے دونوں کے فریقوں کے درمیان جو کچھ ہوا، اس پر صرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ دھکا مکی، گالی گلوج، الزام تراشی، سخت کلامی، بے ادبی، بد تہذیبی، ان میں سے کون سی ایسی چیز ہے جو رہ گئی ہو۔ ہر فریق دوسرے پر الزام لگا رہا ہے۔ آج کے اخبار نے جو خبر جمائی ہے اس سے پورے واقعے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جان لیوا حملے تک کی باتیں سوشل میڈیا میں آ چکی ہیں۔

امارت کی یہ صورتِ حال شرم ناک ہے۔ بہار اور بہاریوں کے سلسلے میں پورا ملک جیسی مثبت سوچ رکھتا تھا، اب وہی سوچ منفی رخ اختیار کر چکی ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کئی بڑی شخصیات نے دنیا کو خیر باد کہا اور سب کی خانہ پری ہو گئی۔ دارالعلوم دیوبند نے شیخ الحدیث کا مسئلہ حل کر لیا۔ جمعیۃ علمائے ہند نے نئے صدر اور اپنے نئے امیر الہند کا اعلان کر دیا۔ مظاہرِ علوم نے بھی خالی منصب کا خلا ختم کر دیا، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی اپنی اسامی بھرلی، حالانکہ یہ تمام ادارے بھی شوریٰ سے ہی چلتے ہیں، کوئی اٹھا پٹخ نہیں۔ کوئی کھینچ تان نہیں۔ کوئی بہتان تراشی نہیں، لیکن امارتِ شرعیہ ایسی بد قسمت ثابت ہوئی کہ مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات کو چھ مہینے ہونے کو ہیں اور امارت کا مسئلہ ہنوز روزِ اول۔ اللہ جانے اور کتنے دن لگیں گے! اتنے دنوں میں تو بیربل بھی اپنی مشہورِ زمانہ کھچڑی کی سو دیگیں اتار چکا ہوتا۔ امارت کی شبیہ ان چھ مہینوں میں اس طرح بگڑی ہے کہ اسے اپنی اصلی صورت پر لانے میں شاید ایک دہائی لگ جائے گی۔ اہلِ بہار یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ تماشا کوئی نہیں دیکھ رہا، حالانکہ پورا ہندوستان، بلکہ پوری دنیا اسے دیکھ رہی ہے اور تھوتھو کر رہی ہے۔ ابھی چند دنوں پہلے امارت سے ایک وفد دیوبند آیا تھا، جس کا مقصد یہاں کی دو ممتاز شخصیات کو بطورِ مشاہد شرکت کی دعوت دینا تھا، مگر دونوں نے انکار کر دیا، تلافئ مافات کے لیے دوسری صف کی دو اور ممتاز شخصیات کو دعوت دی گئی، انہوں نے بھی معذرت کر لی۔ خبر ہے کہ سہارنپور کے مدعو علما نے بھی انکار کر دیا ہے۔ ایسے ماحول اور حالات میں کون جانا چاہے گا۔ ہر آدمی کو عزت عزیز ہے۔ ایسی مجلس میں جانے کا کوئی حاصل نہیں جہاں جوتے بازی اور دھینگا مشتی پورے عروج پر ہو۔ عہدے کے لیے ایسی لڑائی! الامان و الحفیظ! میں سچ کہتا ہوں کہ بحیثیت بہاری بہت شرمندہ ہوں اور میرے لیے جواب دینا ناممکن ہو چکا ہے۔

ذمہ داران امارت بالخصوص شوریٰ سے درخواست ہے کہ اب صرف 10/اکتوبر کے اعلان کو عملی جامہ پہنائیں اور کسی نئی رائے کی جانب ہرگز توجہ نہ دیں، جو انتشار کا باعث ہو، خواہ وہ بڑوں کی جانب سے آئے یا چھوٹوں کی جانب سے۔ پل کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے، اب اس سے زیادہ کی امارت متحمل نہیں ہے۔

Previous articleخصوصی ریاست کے درجہ پر وزیر کے بیان سے گرمائی سیاست!
Next articleڈاکٹر محمد اطہر مسعود خاں کی مرتب کردہ کتاب: تذکروں کا اشاریہ از: ڈاکٹر مظفر نازنین،کولکاتا

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here