آہ! مولانا مفتی عبدالشکور قاسمی از: انوار الحسن وسطوی

0
231

حضرت مولانا مفتی عبدالشکور قاسمی ہمہ جہت شخصیت کے حامل عالم دین تھے – دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل مفتی عبدالشکورقاسمی کو اللہ تعالی نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا – مختلف علوم و فنون پر ان کی نظر گہری اور وسیع تھی- وہ ایک اچھے مدرس کے ساتھ ایک صاحب بصیرت فقیہ اور فصیح البیان مقرر تھے- فتاویٰ نویسی میں انہیں کمال حاصل تھا- اپنی قابلیت اور علمی صلاحیت کے سبب دینی علمی اور ادبی حلقے میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے- مفتی صاحب مرحوم ایک ذی علم گھرانے کے چشم و چراغ تھے- موصوف معروف عالم دین حضرت مولانا محمد یعقوب قاسمی سابق مہتمم مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفر پور اور فارسی زبان و ادب کے جید استاد پروفیسر عبدالغفور شمس سابق صدر شعبہ فارسی، بہار یونیورسٹی، مظفر پور کے برادر خرد تھے- موصوف گوناگوں خوبیوں کے حامل تھے- جہاں واہ ایک باصلاحیت عالم دین وفقیہ تھے وہیں ایک بہتر اور مثالی انسان بھی تھے- مفتی عبدالشکور کم گو، خوش مزاج، خوش اخلاق، نیک، شریف النفس، سادگی پسند اور اخلاق و کردار کے پیکر تھے- ان کی علم دوستی مشہور تھی- طلبہ کے علاوہ دیگر تشنگان علم و ادب بھی ان سے فیض یاب ہوتے تھے – وہ اہل علم کے بے حد قدر دان تھے محبت اور شرافت ان کی گھٹی میں پڑی تھی جسے انہوں نے تا زندگی حرز جاں بنائے رکھا – وہ انسانی قدروں کے پاسدار اور علمبردار تھے- بلاشبہ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے-

مولانا مفتی عبدالشکور قاسمی کی سنہ ولادت ان کی خودنوشت کے مطابق 1948 ہے -حفظ قرآن مکمل کرنے کے بعد موصوف نے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم پائی- ان کی تعلیم کی فراغت 1972عیسوی میں دارالعلوم دیوبند سے ہوئی- دارالعلوم دیوبند میں ہی انہوں نے فتویٰ نویسی کی تربیت حاصل کرکے مفتی کی سند حاصل کی- 1973عیسوی میں قاری محمد عثمان لال گنج(ویشالی) کی صاحبزادی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے- مفتی صاحب کی تدریسی زندگی کا آغاز مدرسہ اسلامیہ ہلدی پوکھر ضلع سنگھ بھوم سے ہوا- 6ماہ بعد وہ مدرسہ نورالاسلام چھتون ضلع دربھنگہ آگئے اور تدریسی خدمات انجام دینے لگے – بعدہ حیدرآباد کا رخ کیا جہاں معروف دینی درسگاہ دارالعلوم سبیل السلام میں ناظم تعلیمات مقرر کیے گئے- ڈیڑھ سال بعد حیدرآباد کو بھی خیرباد کہہ کر مدرسہ اسلامیہ بیتیا چلے آئے- یہاں بھی وہ ناظم تعلیمات کے عہدے پر فائز ہوئے- فروری 1978 میں مفتی صاحب کی باضابطہ تقرری ضلع ویشالی کے قدیم دینی درسگاہ مدرسہ احمدیہ ابابکرپور میں ہوئی جہاں انہوں نے دسمبر 2013 تک اپنے فرائض انجام دیئے- اس درمیان انہوں نے لمبی مدت تک مدرسہ ہذا کے دارالاقامہ کی ذمہ داری بھی بحسن خوبی نبھائی- 31 اگست 2012 کو مولانا آفتاب عالم مفتاحی کی سبکدوشی کے بعد وہ مدرسہ احمدیہ کے پرنسپل ہوئے اور ملازمت سے سبکدوشی تک وہ اس عہدے پر فائز رہے – امارت شرعیہ نے جب ویشالی ضلع میں ضلعی دارالقضاء کے قیام کا فیصلہ لیا تو مفتی عبدالشکور صاحب کو امارت شرعیہ بلا کرکارقضا کی تربیت دی گئی اور 23 ستمبر 2002 کو مدرسہ احمدیہ میں منعقدہ ایک عظیم الشان اجلاس میں حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب نے انہیں ضلع ویشالی کے قاضی شریعت کے عہدے پر فائز کیا -2013 میں مدرسہ کی ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بھی مفتی صاحب منصب قضا کی ذمہ داری بحسن و خوبی نبھاتے رہے- جب صحت نے ساتھ دینا چھوڑ دیا اور کام کرنے میں دشواری پیش آنے لگی تو موصوف نے اس ذمہ داری سے سبکدوشی حاصل کرلی اور 2018 کے اواخر میں مستقل طور پر اپنے گھر کبئ بنگھڑا( سمستی پور) چلے آئے –
گھر آنے کے بعد بھی ان کی علالت کا سلسلہ جاری ہی رہااور ضعف و نقاہت میں اضافہ ہوتا چلا گیا- بالآخر 29 اگست 2021 بروز اتوار صبح 9 بجے انہوں نے داعئ اجل کو لبیک کہہ دیا- دوسرے دن 30 اگست 2021 بروز سوموار بوقت 10 بجے دن ان کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادے حافظ فضل اللہ ماجد کی امامت میں ادا کی گئی اور مقامی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی-
مفتی عبدالشکورقاسمی جہاں ایک مثالی معلم تھے وہیں ایک بہترین مقرر بھی تھے – ان کی تقریر نہایت مدلل اور عالمانہ ہوتی تھی جس میں قرآن و احادیث کے حوالے ہوتے تھے-اہل علم کے درمیان ان کی تقریر بہت پسند کی جاتی تھی- ان کی پر تاثیر تقریر سے کم پڑھے لکھے لوگ بھی مستفیض ہوتے تھے- عالم جوانی میں ہی ان کے گلے میں کچھ تکلیف ہوئی جس کے سبب ان کی آواز پھٹ سی گئی تھی جس کے سبب انہوں نے تقریر کرنا چھوڑ دیا تھا، لیکن ان کے درس و تدریس کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا تھا – مفتی صاحب موصوف ایک اچھے مفسر قرآن بھی تھے انہوں نے عرصہ تک مدرسہ احمدیہ ابابکرپور کی مسجد میں درس قرآن کی خدمت انجام دی تھی- ان کے اس درس میں لوگ بشوق شریک ہوتے تھے اور مستفیض ہوتے تھے- عام مجلسوں میں بھی ان کی صحبت میں بیٹھنے والے کچھ سیکھ کر ہی اٹھتے تھے – مفتی صاحب مرحوم بہت زندہ دل اور بے حد خوش مزاج انسان تھے-
ایک باکمال اور ایک باوصف شخصیت ہونے کے باوجود مفتی صاحب موصوف شہرت و ناموری کی خواہش سے کوسوں دور ہے- اللہ رب العزت نے انہیں جس قدر علمی صلاحیت سے نوازا تھا اگر وہ اس کے ذریعے شہرت حاصل کرنا چاہتے تو سرزمین بہار میں ان کے نام کا بھی ڈنکا بجتا – لیکن وہ ہمیشہ گوشہ گمنامی کے اسیر رہے- ان کی علمی صلاحیت پر قاضی مجاہد الاسلام قاسمی جیسے شہرہ آفاق عالم دین اور فقیہ کو بھی اعتماد تھا، لہذا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کے زمانے میں حضرت قاضی صاحب دارالعلوم دیوبند تشریف لے جاتے تو وہاں اپنی تحریروں کا ڈکٹیشن دینے کے لیے مفتی عبدالشکورقاسمی کو اپنے ساتھ رکھتے- یہ بات مفتی عبدالشکورقاسمی نے خود راقم السطور کو ایک ملاقات میں بتائی تھی- مفتی صاحب نے بے پناہ علمی صلاحیت ہونے کے باوجود نہایت خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی گزاری اور درس و تدریس کے فرائض کی انجام دہی تک ہی خود کو محدود رکھا -قابل رشک علمی صلاحیت ہونے کے باوجود انہوں نے تصنیف و تالیف کی جانب کبھی توجہ نہیں دی حالانکہ انہوں نے بے شمار لوگوں کی تحریروں کی تصحیح فرمائی اور کتنے قلمکاروں کے مسودوں کی نظر ثانی کی- لوگوں کی گزارش پر کتابوں کے لئے “مقدمہ” اور “تقریظ” کے کلمات لکھے لیکن خود ان کی کوئی تصنیف منظر عام پر نہیں آئی- مفتی صاحب کے انتقال کے بعد یہ بات علم میں آئی ہے کہ مفتی صاحب موصوف نے اپنے کچھ مضامین اور اشعار کو یکجا کرکے مولانا نظرالھدی قاسمی ابن مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کے حوالے کر رکھا تھا جسے مفتی صاحب کی زندگی میں ہی مولانا نظرالھدی قاسمی منظرعام پر لانے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن بوجوہ یہ کام نہیں ہو سکا اور مفتی صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے- خدا کرے کہ مفتی صاحب کا وہ قیمتی اثاثہ شائع ہوکر منظر عام پر آ جائے تاکہ مفتی صاحب مرحوم کے چاہنے والے اور عام حضرات بھی اس سے مستفیض ہو سکیں-
ان کی شخصیت کے تعلق سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ بے پناہ صلاحیت کے مالک ہونے کے باوجود ان کے اندر اپنے علم اور اپنی صلاحیت پر کوئی فخر اور ناز نہیں تھا- وہ ہمیشہ عاجزی و انکساری کا شیوہ اختیار کیے رہے- ہر کس و ناکس سے ملتے اور مخاطب کے علمی معیار کا خیال رکھتے ہوئے ہی اس سے گفتگو کرتے- وہ ایک دلنواز شخصیت کے انسان تھے –

مفتی عبدالشکورقاسمی سے ہم لوگوں کے بے تکلفانہ مراسم تھے – میرے والد گرامی جناب محمد داؤد حسن (مرحوم) مفتی صاحب موصوف کے بے حد قدر داں اور مداح تھے- مفتی صاحب بھی ابا محترم کی بے حد عزت کرتے تھے- میرے برادر خرد ماسٹر انظار الحسن جس زمانے میں مدرسہ احمدیہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے تو مفتی صاحب موصوف کا میرے گھر حسن پور وسطی (مہوا) گاہے بگاہے آنا ہوتا تھا- مہوا آنا ہوتا تو مفتی صاحب ابا محترم سے ضرور ملاقات کرتے – ابا حضور جاڑے کے موسم میں اکثر مفتی عبدالشکور صاحب کو نہاری کی دعوت پر مدعو کرتے- اس دعوت میں ان کے ساتھ مدرسہ ہذا کے استاد مولانا آفتاب عالم مفتاحی اور ماسٹر نورالحق صاحب بھی شریک رہتے – ان حضرات کا شب میں میرے یہاں قیام ہوتا اور صبح ناشتے کے بعد وہ لوگ مدرسہ کے لئے روانہ ہوتے- مفتی صاحب موصوف سے ابا محترم کی اتنی بے تکلفی تھی کہ اگر کسی سال نہاری کی دعوت دینے میں تاخیر یا کوتاہی ہو جاتی تو مفتی صاحب خود ہی دعوت کی یاد دلا دیتے- ابا محترم مفتی صاحب کی اس ادا سے خوب محظوظ ہوتے اور اس کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتے-26 فروری 2018 کو جب ابا محترم کے انتقال کی خبر مفتی عبدالشکور صاحب کو ملی تو اس وقت مفتی صاحب مدرسہ احمدیہ ابابکرپور میں ہی مقیم تھے- موصوف مدرسہ کے دوسرے اساتذہ کے ساتھ ابا کے جنازے اور تدفین میں شرکت کرنے تشریف لائے- پھر جب ابا کی حیات وخدمات پر میرے فرزند ڈاکٹر عارف حسن وسطوی کتاب ترتیب دینے لگے تو مفتی صاحب نے میری درخواست پر بڑی محبت سے ایک تاثراتی تحریر بعنوان” لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے” لکھ کر مجھے ارسال کیا جسے” داؤد حسن :زبان خلق کے آئینے میں” شامل اشاعت کیا گیا- مفتی صاحب موصوف کی اس تحریر سے ابا مرحوم سے ان کی محبت و عقیدت کا نمایاں اظہار ہوتا ہے-

حضرت مولانا مفتی عبدالشکور قاسمی اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن مدرسہ احمدیہ ابابکرپور کے درودیوار ان کی خوبیوں اور ان کی خدمات کے گواہ ہیں- مسلمانان ویشالی ان کی وفات کی خبر سے مغموم و ملول ہیں- مفتی صاحب نے تقریباً چالیس سال کا عرصہ ویشالی کے لوگوں کے ساتھ گزارا تھا- اس طویل مدت میں انہوں نے علم و فن کے جوہر لٹائے تھے- اس سے فیضیاب ہونے والے آج ان کے لیے دست بدعا ہیں – دعاء ہے کہ اللہ رب العزت مفتی صاحب کی نیکیوں کو قبول فرما کر انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو مفتی صاحب کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت دے- آمین –

ورق تمام ہوا اور مدح ابھی باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لئے

Previous articleنگاہ کی حفاظت _ اہلِ ایمان کے لیے تاکیدی حکم از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
Next articleبہارمیں وائرل بخار سے حالات سنگین ، حکومت الرٹ! وزیر اعلی نتیش کمار۔

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here