آپ کی چادر بھی چاک کردی جائے گی! محمد صابر حسین ندوی

0
61

یہ خیال ہی جسم جھنجھوڑ دیتا ہے کہ ایک عظیم مبلغ، محبت کا داعی، برادران وطن کیلئے مسیحا، ملک کا وفادار، قوم وملت کا بے لوث خادم عدالتی تحویل میں چوبیس گھنٹے گزار چکا ہے، آخر یہ شب کیسی گزری ہوگی؟ بلکہ تازہ اطلاعات کے مطابق آپ کو دس روزہ پولس کسٹڈی میں دے دیا گیا ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے ٹی ایس اپنے منصوبے پر باصرار گامزن ہے، گزشتہ روز بحث و مباحثہ میں پولیس تحویل سے انکار کے باوجود آج نہ جانے کونسی دلیل دی گئی اور کیسے قانونی داؤ پیچ کھیلنے گئے کہ عدالتی فیصلے بدل گئے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس چوبیس گھنٹے امت مسلمہ کو صحیح صورتحال کی خبر تک نہ لگی، اس کے اعلی قائدین کچھ کلیدی فعالیت بھی دکھا پائے کہ اس دوران پورا کا پورا فیصلہ پلٹ دیا گیا،

آہ!! باطل کس قدر تیز رفتار، مشن پر اٹل اور اسلام و مسلمانوں کی بیخ کنی پر کمر بستہ ہے، افسوس کی بات ہے کہ جس ملک پر اولیاء، صوفیاء کا راج ہوا کرتا تھا، جنہیں اس ملک نے باہیں پھیلا کر گلے لگایا، اپنی پیاسی سرزمین کو ان کی سوز کی بوندوں سے بھگویا، ویرانی میں سیرابی کی راہ لی، ظالم وجابر بادشاہ، طبقہ واریت، چھوا چھوت اور سماجی تفاوت میں انہیں کے سہارے ایک جنگ لڑی، خلق عام نے ان کی طرف رجوع کیا، توبہ و استغفار کی اور اسلام سے مشرف ہوئے، اگر ایسا نہیں ہوا تو کم از کم وہ اس سے بھی محروم نہ رہے کہ ان بزرگوں کی قدر کریں،

پرتھوی راج چوہان اور خواجہ معین الدین چشتی کا واقعہ مشہور ہے، راجستھان، دہلی جیسے صوبوں کا چپہ چپہ ایسی رواداری پر گواہ ہے، انگریزی حکومت میں نہ جانے کتنی دفعہ ہندو کے خلاف مسلمان نے اور مسلمان کے خلاف خود ایک مسلمان قاضی نے شہادت دی، شاید ہی کوئی منصف مزاج ہوگا جو اس بات سے انکار کرے کہ اس خطہ پر اولیاء اور بزرگوں کا احسان عظیم ہے، ورنہ یہ سماجی اونچ نیچ اور ذات پات کی تفریق میں نہ جانے کب کٹ مرے ہوتے؛ لیکن یہ کیسا دور آگیا ہے کہ اب محبت کا اظہار کرنے والوں کو قید کیا جارہا ہے، انہیں جیلوں میں ڈھونسا جارہا ہے، پولیس کے ڈنڈے برسائے جارہے ہیں، نت نئے بہانے اور سازش کی جا رہی ہے، ان کے وجود کو مشکوک بنایا جارہا ہے، شخصیت کو مجروح کیا جارہا ہے، برادران وطن کے ذہنوں میں نفرت کے بیج ڈالے جارہے ہیں، یہ باور کروایا جارہا ہے کہ سارے مسلمان بالخصوص داڑھی، ٹوپی اور جبہ والے مشکوک ہوا کرتے ہیں، ان کی ایکٹیویٹی تشکیکی ہوا کرتی ہیں، ان کے پیغام انس و انسانیت کو فتنہ وفساد بتایا جارہا ہے، ہندوستانی دستور تو اپنی جگہ یہ اب انسانیت کو بھی داغدار کر رکے ہیں، قدیم تاریخ کا دامن جدید ہندوستان سے کاٹ رہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس نئے دور کا قدیم زمانے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، یہ صرف ہندوازم کے نام پر اپنے ملک کو بھی برباد کردینا چاہتے ہیں، قومی روایات کو پامال کر رہے ہیں.

اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ سبھوں نے ہونٹ سل لیے ہیں، کوئی بولنا نہیں چاہتا، دنیا میں مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی یہاں مقیم ہے؛ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہوگئے ہیں، انہوں نے سر جھکا لیا ہے، ان کے ادارے، اشخاص غیروں کیلئے کھلونا بن گئے ہیں، وہ جب چاہیں جہاں چاہیں اور جسے چاہیں نشانہ بنا سکتے ہیں؛ گویا کوئی تماشہ چل رہا ہے، مسلمانوں کی جان ومال کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے، اور مسلمان ہیں کہ مصالح کی چادر تلے سب کچھ برداشت کئے جارہے ہیں، ایک زمانے تک عدالت / عدالت کی رَٹ لگاتے رہے؛ بالآخر کاری ضرب لگی، منہ کی کھانی پڑی، تب کہیں ہوش آیا، مگر شاید اب بھی خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں ہیں، بہرصورت گنگا جمنی تہذیب اور انسانیت کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کو سمندر میں غرق کر کے ہی دَم لینا چاہتے ہیں، ورنہ غور کرنے کی بات ہے کہ اب تک مسلمانوں کی اول صف نے پیش قدمی کیوں نہیں کی؟ جماعت اسلامی کی جانب سے آفشیلی بیان جاری کیا گیا ہے اور فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سنّاٹا پسرا ہوا ہے، مردنی چھائی ہوئی ہے، ایک دوسرے کی بغلیں جھانک رہے ہیں، جو ہر بات پر بیان بازی کیا کرتے ہیں وہ سب بھی خموش ہوگئے ہیں، یا کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض اندرونی ناچاقی کی بنا پر اس واقعہ کو بانسری بجانے کا ذریعہ بنا لیا ہے، اگر ایسا ہے تو واقعی میں یہ ذلیل ترین لوگ ہیں، روئے زمین پر چلتی پھرتی مردہ لاشیں ہیں، جنہیں آج نہیں تو کل گدھ نوچ کھائیں گے، اگر ایسا نہیں ہے تو کیا یہ وقت نہیں کہ ہم پر سڑکوں پر نکل پڑیں، احتجاج کریں، پوری قوم میں ایک صور پھونک دی جائے، اعلی نام و خاندان اور صاحب وجاہت لوگ میدان میں قیادت کریں، کیا ہمارے لئے کسان آندولن نمونہ نہیں ہے، کیا اس سے پہلے سی اے اے اور این آر سی کے مظاہرے ہمارے سامنے نہیں؟ پھر اس قدر نرمی کیوں دکھائی جارہی ہے؟ کیا مسلمانوں نے ڈھان لیا ہے کہ وہ اب اپنے رہنماؤں، اداروں اور اشخاص کو بلی کا بکرا بنتے دیکھتے رہیں گے، اور کچھ نہیں بولیں گے، حد درجہ افسوس کی بات ہے کہ شاہ ولی اللہ پھلت، مظفر نگر جیسے ادارے اور لاکھوں کی تعداد میں فارغین، جدید مسلمان اور کام کا وسیع ترین دائرہ ہونے کے باوجود کوئی ہنگامہ اور کوئی شور نہیں، ایس لگتا ہے کہ قضا و قدر کا بہانہ یا پھر قانونی مصالح کی آڑ لیکر سب کچھ برداشت کیا جانے لگا ہے، اگر یہی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ کوئی لکھے؟ کوئی کچھ کہے؟ انتظار کیجئے کہ ہماری باری آجائے، کل کو یونہی کوئی اٹھا لیا جائے اور آپ بھی ایک آہ نکال کر اپنی اپنی چادریں تان کر سوجائیں؛ مگر یہ قصہ اتنی آسانی سے ختم ہونے والا نہیں ہے، مستقبل تاریک ترین لگتا ہے، اگر ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو کب آپ کی چادر بھی چاک کردی جائے کوئی نہیں جانتا، کوئی نہیں جانتا!!*

Mshusainnadwi@gmail.com

Previous articleمولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری ایک محب وطن شہری کی توہین، اسلام کی دعوت دینا کوئی جرم نہیں: مولانا احمد ولی فیصل رحمانی
Next articleحضرت مولانا سجاد نعمانی دامت برکاتہم کی امت مسلمہ سے اپیل!

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here