آج کل سچ بولنا کیوں مشکل ہوتا جارہاہے؟

0
105

عبدالرحمٰن
نئی دہلی
(سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک)
rahman20645@gmail.com

سن 2006 عیسوی میں دو مرتبہ حج بیت اللہ کا فریضہ ادا کیا گیا۔
سال کا پہلا حج 9؍جنوری، جب کہ دوسرا حج 29؍دسمبر(جمعہ) کو واقع ہوا تھا۔
الحمدللہ، اہلیہ محترمہ کے ساتھ، مجھے دوسرے حج کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ تعالی قبولیت عطا فرمائے۔

مناسک حج کے ساتھ ساتھ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، منٰی، عرفات اور مزدلفہ کے تعلق سے کئی دوسرے فرحت بخش مشاہدات بھی مجھے حاصل ہوئے۔ مکہ کے بازار میں ہوئے ایک نا قابل فراموش تجربے کا یہاں ذکر مناسب رہے گا۔

ہمارے عزیز وطن، ہندوستان کے شہریوں کی عمومی طور پر یہ عادت ہے کہ وہ کسی بھی معاملہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے، جب تک کئی مرتبہ اس کی وضاحت طلب نہ کر لیں۔ عازمین حج کے طور پر، ہندوستانی کسٹمر (گاہک) عموماً عرب دوکان دار سے ٹوٹی پھوٹی عربی یا اشاروں میں ہی بات کرتے ہیں۔ اپنی عادت کے زیر اثر، جب وہ دوکان دار سے وہی بات دوبارہ دریافت کرتے ہیں، جس کا جواب وہ پہلے ہی دے چکا ہے، تب وہ اسی بات کو دوہرانے کے بجائے، “ِللہ سامِحنی” ( اللہ کےلیے معاف کریں) جیسے الفاظ بول کر خاموش ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالی کا شکر، میں اس نظارہ سے بہت محظوظ ہوا، شاید اس لیے کہ میری طبیعت میں بھی کچھ اسی طرح کا میلان پایا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کی طرف دیکھتے ہوئے میری خواہش ہوئی کہ کاش، ہمارے معاشرے میں بھی یہ عمل آسان ہوجائے کہ کہنے والا صرف ایک ہی بار میں سہی بات بیان کردے اور سننے والا بھی، ایک ہی بار میں سہی تسلیم کر تے ہوئے، اس کو قبول کرلے۔

بلا شبہ، غور وفکر کرنے والوں کو فلسفہ “ایک بار” میں بے پناہ رحمتیں پوشیدہ نظر آئیں گی۔ اس حقیقت پر ضرور غور کیا جانا چاہیے کہ جب سعودی عرب میں اس طرز گفتار پر عمل ممکن ہے، تب بر صغیر ہند و پاک میں کیوں نہیں؟

سفر حج سے بہت پہلے، کچھ ملتے جلتے تجربات مجھے اپنی بینک میں کسٹمرس (customers) کے توسط سے بھی حاصل ہوچکے تھے، حالاں کہ وہ مکہ شہر کے تجربات سے مختلف تھے۔ ہندوستان کے دہلی جیسے بڑے شہروں میں تو اتنا نہیں، مگر قصبوں اور دیہی علاقوں میں واقع بینک کی شاخوں (Bank branches) میں ضرور لوگ کام سے زیادہ اس بات کے شائق رہتے ہیں کہ مینیجر صاحب ان کے ذاتی معاملات، گھر اور پریوار (خاندان ) کے تعلق سے بھی باتیں کریں۔ کئی برانچوں میں کام کرنے سے حاصل ہوئے تجربات کی روشنی میں، وثوق کے ساتھ کہا جاسکتاے کہ بینک میں داخل ہوتے ہی، فوراً کام کر دینا، زیادہ تر لوگوں کو اچھا نہیں لگتا تھا؛ ان کو محسوس ہوتا تھا، جیسے کام میں کوئی کمی رہ گئی ہے، کیوں کہ مینیجر صاحب یا کیشیر صاحب نے ان سے ادھر ادھر کی باتیں نہیں کیں ۔
چوں کہ “گاہک کا اطمینان” (customer satisfaction) کسٹمر سروس کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے، اس لیے میں اور میرے ساتھی کام کے ساتھ ساتھ، بینک گاہکوں سے باتیں بھی کیا کرتے تھے۔ نتیجتاً، کاروبار (business) میں ترقی ہونے کے ساتھ ہی، اس علاقے کی پبلک بھی ہم سے خوش رہتی تھی۔ ہمارے میدان عمل میں آباد افراد کی خوشی کی ایک بڑی وجہ، جو میری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ تھی کہ اللہ تعالی کی رحمت سے، میں ہمیشہ فطری اخلاق (natural virtues) کا مالک رہا ہوں، اور بناوٹی اخلاق (artificial etiquette) سے دور، حالاں کہ یہ معاملہ بھی بے سبب نہیں ہے۔

الحمدللہ، مجھے بچپن اور لڑکپن میں صالح بزرگوں کی تربیت اور علمی صحبت نصیب ہوئی، جس کے زیر فیضان، میری شخصیت کو مستقل طور پر، جھوٹی اخلاقیات (false morals) سے حفاظت حاصل ہوگئی، اور اس طرح مجھے کبھی “بااخلاق” ہونے اور “خوش اخلاق” ہونے میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔

یہ کوئی خود ستائی (self praise) اور ذاتی بڑائی کے کلمات نہیں ہیں، بلکہ بیان واقعہ ہیں۔ میں ان ذاتی خوبی و خصوصیات کو صرف اس لیے قلم بند کررہا ہوں تاکہ، ہمارا معاشرہ، خاص طور پر، نوجوان نسل، یہ ادراک حاصل کر سکے کہ ایک اچھی شخصیت کی تعمیر میں کن عوامل کا کتنا دخل ہوتا ہے۔

اپنے موضوع کی جانب واپس لوٹتے ہوئے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ایک ہی بات کو کئی مرتبہ دوہرانے کا کام، علمی اعتبار سے بے فائدہ اور وقت کا ضیاع ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک پر خطر عمل بھی ہے۔ جب تک کہ وہ لکھی ہوئی صورت میں موجود نہ ہو، کسی بھی بات کو دوہرانے سے اس میں دوسری جہتیں (dimensions) شامل ہونے کا ڈر بنا رہتا ہے، اور مزید کئی بار دوہرانے سے، کئی زاویہ نظر پیدا ہونے کا امکان بھی قوی ہوجاتا ہے، جو آگے چل کر بحث و تکرار کی وجہ بن سکتا ہے، اور مستقبل میں لڑائی جھگڑے کی بنیاد بھی۔ علاوہ ازیں، مستقل نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے غیر علمی رویہ سے، آہستہ آہستہ، انسان “سچ” کے معاملہ میں غیر سنجیدہ ہونے لگتا ہے۔ حقیقت میں، سچ کے متعلق غیر سنجیدہ انسان، اپنی پراعتماد اور جامع شخصیت کی تشکیل میں ناکام ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کمزور شخصیت کے مالک افراد آخرت میں ہی نہیں، دنیا میں بھی بلند مقام حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دراصل، سچ کا مطلب ہوتا ہے صد فی صد، یعنی سو میں سو!

اس سے کم کا سچ جھوٹ کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ یقیناً، سچ سے عاری قول و فعل میں کوئی خیر نہیں۔ جھوٹے افراد اللہ تعالی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناپسند ہیں (قرآن، آل عمران-2: 61) اور (حدیث، صحیح البخاری: 6094)۔
دنیا میں بھی، ہزار طمطراق کے باوجود، جھوٹے انسان بے وقعت اور ذلیل و خوار ہی رہتے ہیں۔

اوپر بیان کی گئیں وجوہات کے علاوہ، ہمارے معاشرے میں ایسے دوسرے عوامل بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے آج کل لوگوں کے لیے سچ بولنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ لوگ سچ سے دور ہوتے جارہے ہیں، سچ کا اپنا ایک مقام ہے، جو آج بھی مسلم ہے۔
چوں کہ سچ کو اللہ تعالی کی نصرت حاصل ہے، اس لیے سچ کا یہ مقام ہمیشہ دائم و قائم اور سرخرو رہے گا۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ انسان سچ کی اس امتیازی حیثیت کا ادراک کریں، سچائی سے اپنی رغبت بڑھائیں اور اپنی زندگی کو حق و صداقت سے ہم کنار کریں۔ نتیجہ کے طور پر، دنیا اور آخرت، دونوں جگہ عزت کی بلند مقام زندگی سے لطف اندوز ہوں۔
ہمارے معاشرے کا ایک اور دلچسپ مشاہدہ یہاں پیش کیا جاتا ہے، جو بخوبی واضح کرتا ہے کہ سچ کے بغیر انسانی دنیا کتنی کھوکھلی اور بے معنی ہے:

ایک عام مشاہدہ، جس کے تجربے سے معاشرہ میں شاید ہی کوئی شخص محروم ہو، یہ ہے کہ بذات خود جھوٹا اور بے ایمان قسم کا کوئی کاروباری یا دوکان دار، جب اپنے لیے منشی، مینیجر یا کسی عام کارکن کا انتخاب کرتاہے، تو وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کا ‘کرم چاری’ (employee) ایک دم سچا، ایمان دار اور دیانت دار ہو، تاکہ وہ اپنا کاروبار بے فکری سے اس کے حوالے کرسکے۔ اسی طرح کا ماحول دوسرے اداروں اور دفاتر میں بھی دیکھا جاسکتاے، جہاں عموماً باس لوگ اپنے چپراسی اور ما تحت افراد کو عمل اور کردار کے معاملہ میں “سولہ آنہ”(صد فی صد) صالح اور محنت کش دیکھنا چاہتے ہیں، حالاں کہ، ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ خود بھول جاتے ہیں کہ انہیں بھی اپنے ادارے کے چھوٹے بڑے سبھی طرح کے معاملات میں کسی بھی طرح کی بدعنوانی یا خیانت سے پرہیز کرنا چاہئے۔
اسی دو جہتی متضاد قول و فعل کے عمل نے معاشرہ کو “سچ” کی نشونما سے محروم کر دیا ہے۔

انسان کو عنایت کی گئی ارادہ و اختیار کی آزادی ہی دراصل، دنیا میں اس کا امتحان ہے۔ وہ جب سچ کے بجائے، اپنی زندگی کو جھوٹ سے معمور کرتا ہے، تو گویا وہ دانستہ طور پر “ناکام” ہونے کی جسارت کرتا ہے۔ “بے شک انسان بڑا ظالم اور جاہل ہے” (الاعراف-33: 72)

مذکورہ بالا مشاہدہ کی روشنی میں واضح ہوجاتا کہ ایک بے ایمان اور جھوٹے آدمی کو بھی خود اس کا اپنا تجربہ یہ سکھا دیتا ہے کہ جھوٹ اور بے ایمانی کی بظاہر چمک دمک والی زندگی جینے والا کوئی شخص، افادیت کے لحاظ سے بے قیمت اور دوسرے لوگوں کے دلوں میں بے عزت اور بے وقار ہوکر ہی رہتا ہے۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ اس ادراک کے باوجود، وہ خود کو سچا اور دیانت دار بنانے میں تھوڑی سی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا ہے۔

مندرجہ ذیل سطور میں مزید یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تمام برائیوں کے باوجود، معاشرے میں کیوں کر جھوٹ نہ صرف اپنے پائوں جمائے ہوئے ہے، بلکہ لوگوں کے لیے سچ بولنا بھی دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے؟

ایک بچہ کے پیدا ہونے کے ساتھ ہی، اس کی انسانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کا کام شروع ہوجاتاہے۔ شروعاتی سات سال کی عمر تک، اس کی شخصیت کی عمارت کی بنیاد اور ضروری ستون (pillars) تیار ہوجاتے ہیں ۔ آئندہ زندگی کا خوب صورت، خوب سیرت اور مضبوط و محفوظ ہونا بلڈنگ (عمارت) کے اسی بنیادی ڈھانچے (structure) پر منحصر ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات (psychologists) کے تخمینہ (calculation) کے مطابق، انسانی شخصیت کو بنانے اور سنوارنے والا 95 فی صد مصالحہ (raw material) اسی کم سنی کی عمر میں ہی دستیاب ہوجاتا ہے۔
اس علمی آگہی کی روشنی میں، جو افراد یہ محسوس کررہے ہوں کہ ان کے “بچپن” کا کارخانہ، کسی بھی وجہ سے، بے اعتنائی کا شکار ہوگیا تھا، آج ہی یہ مضبوط ارادہ کرلیں کہ وہ گھر میں موجود بچوں کے ساتھ ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔ انسان کو اگر بچپن میں ہی سچائی کے رنگ میں رنگ دیا جائے، تو یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ رنگ تا حیات قائم و دائم رہے گا، اور کسی بھی طرح کے انتشار و انحراف (complexes and distraction) اس کو سچ کی صراط مستقیم سے نہ ہٹا سکیں گے۔
استثنائی طور پر، انسان چوں کہ ایک آزاد مخلوق ہے، اس لیے وہ اپنے ارادہ و اختیار کے دم پر جھوٹے اور غلط راستوں کا بھی انتخاب کرسکتا ہے۔

بچپن کی بہترین تعلیم و تربیت کے علاوہ، زندگی کے بہت سے دوسرے عوامل (factors) پر بھی انسان کی نظر بنی رہنی چاہیے، کیوں کہ ان عوامل کے ساتھ برتی گئی لاپرواہی بھی، اس کو سچ کے سیدھے راستہ سے بھٹکا سکتی ہے۔ یہاں، ایسے ہی کچھ عوامل کی نشان دہی کی جاتی ہے:

۰ خدا کے تخلیقی منصوبہ (Creation plan of God) سے بے اعتنائی
۰ لالچ (greed) اور خود غرضی (self orientation) کا مادہ
۰ گھمنڈ (arrogance) کی نفسیات
۰ خود اعتمادی (self confidence) کا ضعف
۰ احساس کمتری (inferiority complex) کی بیماری
۰ بھیڑ چال (mob mentality) کی نفسیات
۰ چالاکی (over smartness) کے داعیات
۰ شیخی خوری (boastfulness) کی عادت
۰ رد عمل (reaction) میں جلد بازی
۰ سہی اور غلط کے فرق (difference between right and wrong) کے متعلق عدم سنجیدگی
۰ تعصبات کی نفسیات (prejudiced tendencies) میں جینا

زندگی میں مندرجہ بالا عوامل کی دخل اندازی کو نظر انداز کرنا انسانی شخصیت کے لیے بے پناہ نقصان کا سبب ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالی نے کائنات، انسانی دنیا اور انسان کو پیدا کیا۔ ساتھ ہی اس کو پیدا کرکے اسی دنیا میں آباد بھی کردیا۔ انسان کے لیے یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ اس تخلیق کے ذیل میں اللہ تعالی کی کیا پلاننگ (منصوبہ) ہے؟
خدا کا منصوبہ تخلیق (Creation plan of God) کو جانے بغیر انسان، وسیع کائنات، اپنی دنیا اور خود اپنی تخلیق کی توجیہ (explanation) نہیں کرسکتا۔

اپنے تخلیقی منصوبہ کے تحت، اللہ تعالی نے وسیع کائنات تخلیق کی، انسان کو آباد کرنے سے پہلے، کرہ ارض کو اس کی ہر ہر ضرورت اور عیش و آسائش کے تناظر میں اس طرح سجایا اور سنوارا، گویا خالق کائنات نے انسان کے لیے دنیا کو بھی “جنت” بنایاہے۔ دنیاوی جنت اور اخروی جنت میں جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا “عارضی تعمیر” کے اصول پر بنائی گئی ہے، ایک دن ختم کردی جائے گی، اور انسان کو بھی بہت کم مدت کے لیے یہاں بسایا گیا ہے، جب کہ آخرت کی جنت اللہ تعالی کے مومنین و صالحین بندوں کے لیے دائمی اور ہر اعتبار سے ایک معیاری رہائش گاہ ہوگی۔
کائنات کی ہر چیز انسانوں کے لیے نفع بخشی کے زاویہ سے بنائی گئی ہے، مگر رب کائنات نے انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ دنیا میں اس کا “بندہ” بن کر زندگی گزارے(الذاریات-51: 56)۔ بندہ ہونا غلام ہونے سے ایک درجہ آگے کی چیز ہے۔ غلام بھی اپنے آقا کی ہر بات مانتا ہے، مگر بندہ اپنے پروردگار کی ہر بات ماننے کے ساتھ ساتھ، اس کے سامنے اپنی بڑائی کی علامتیں، یعنی پیشانی اور ناک بھی زمین پر رکھ دیتا ہے۔
خدا کو انسان سے مطلوب ہے کہ وہ قرآنی آیات پر تدبر اور اپنے عقل و شعور کو استعمال کرتے ہوئے، خود اپنی پیدائش اور کائناتی نشانیوں (signs) پر غور و فکر کے ذریعے اللہ تعالی کی معرفت (realisation) حاصل کرے اور اس کی بڑائی (اللہ اکبر) کا ادراک کرتے ہوئے، اپنی ارادہ و اختیار کی آزادی کے ساتھ، اس حقیقت کا اعتراف کرے کہ اس کا پروردگار، اللہ رب العزت ہی ساری بڑائی کا مالک ہے، اور ساری تعریف اور شکر اسی کے لیے ہے (الفاتحہ-1: 2)

سوچنے والی بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کی بڑائی اور اس کی تعریف و شکر میں جینے والا ایک انسان “سچائی” کے بغیر جینے کا تحمل کیسے کرسکتاہے؟

‘اللہ اکبر’ یعنی اللہ تعالی کی بڑائی کے حوالہ سے 47 سال پرانا ایک مبارک واقعہ یاد آتا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میرے پری یونیورسٹی کورس (PUC) کے زمانہ کی بات ہے۔ دینیات (سنی) سبجیکٹ کے میرے استاذ، غالباً علی گڑھ شہر کی جامع مسجد کے امام اور معلم و خطیب بھی تھے۔ انہوں نے ایک دن “اللہ اکبر” کی تشریح کرتے ہوئے، اللہ تعالی کی بڑائی کا جو نقشہ پیش کیا وہ ہمیشہ کےلیے میرے ذہن میں ثبت ہوگیا۔ ان کے آج بھی باحیات ہونے کی صورت میں، اللہ تعالی سے میری دعا ہے کہ وہ ان کی دنیاوی زندگی کو مثل جنت عیش و آسائش سے ہمکنار فرمائے، اور آخرت کی زندگی میں ان کو مزید انعامات کے ساتھ جنت الفردوس عطا فرمائے۔(آمین)
انہوں نے جس طرح اللہ تعالی کی بڑائی بیان کی، اسی دن سے، بشمول میری اپنی شخصیت، مجھے دنیا کی ہر چیز چھوٹی نظر آنے لگی۔ واقعتاً، چیزوں اور انسانوں کا رعب میرے اندر سے نکل گیا۔

الحمدللہ، میری نظر میں، اللہ کی مخلوق کے طور پر، تمام انسان اپنے اپنے مقام اور مدارج و مراتب کے اعتبار سے “قابل احترام” ہوگئے، مگر “بڑائی” کے حوالہ سے کوئی بھی بڑا نہ رہا۔
اللہ تعالی اس سبق آموز واقعہ کو لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنائے۔

خود اعتمادی کا ضعف، احساس کمتری کی بیماری، بھیڑ چال کی نفسیات، چالاکی کے داعیات، گھمنڈ کی نفسیات، شیخی خوری کی عادت، ردعمل میں جلد بازی، اور لالچ اور خود غرضی کا مادہ وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کی گرفت میں آکر انسان سچی بات پر قائم رہنے کی ہمت نہیں کر پاتا ہے۔ سبھی سنجیدہ افراد کو جھوٹ اور منافقت سے بچنے کے لیے، ان اور ان جیسی عادت و داعیات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ معمولی بے احتیاطی کے زیر اثر، لوگ “گناہ بے لذت” برائیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔
خیر و شر کے ادراک کی صلاحیت انسانی فطرت میں موجود ہونے کی وجہ سے، شرف انسانیت کا تقاضا ہے کہ انسان اتنا سنجیدہ ضرور ہو کہ وہ سہی اور غلط میں فرق کر سکے۔ اس کے لیے، سچ کے معاملہ میں اپنے ڈھل مل رویہ سے نجات حاصل کرنا اسی وقت ممکن ہے جب وہ سہی اور غلط یا بھلائی اور برائی میں امتیاز کرنا سیکھ جائے۔

ایسے لوگ کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں، جو عام حالات میں تو سچے ہوتے ہیں، مگر جیسے ہی ان کے کسی مفاد کی قربانی در پیش ہوتی ہے وہ کسی تعمل کے بغیر، بڑی آسانی سے غلط بیانی پر اتر آتے ہیں ۔ اسی طرح گھریلو اور خاندانی عزت و وقار کے نام پر بھی لوگوں کے لیے جھوٹ بولنا مشکل سے ہی مشکل ہوتا ہے ۔ ذاتی، خاندانی اور معاشرتی تعصبات، انسان کے سچائی پر قائم رہنے میں ہمیشہ بڑی رکاوٹ پیش کرتے ہیں۔

بلا شبہ، زندگی میں کچھ ایسے نازک پہلو بھی ہوتے ہیں جن کو من و عن بیان کرنا، نہ صرف دشوار ہوتا ہے، بلکہ نا مناسب بھی۔
ایسے حالات میں، بہترین انتخاب ہوتا ہے، خاموش رہنا۔ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اللہ تعالی کے آخری پیغمبر، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے یہ ارشاد نقل کیا جاتا ہے کہ “جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔” (متفق علیہ)

مگر، انسان بھی عجیب نفسیات میں جیتا ہے؛ ایک طرف، اگر سچ بولنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے، تو دوسری طرف، خاموش رہنا اس سے بھی زیادہ مشکل!
نتیجتاً، وہ غلط بیانی، یعنی جھوٹ بولنے لگتاہے۔ دراصل، یہی وہ امتحانی لمحات ہوتے ہیں، جب کہ تھوڑی سی بہادری اور دلیری کا مظاہرہ، انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکتا ہے ۔

جھوٹا آدمی آخرت کے عذاب سے جتنا قریب ہوتا جاتاہے، دنیا میں بھی وہ اتنا ہی بے وقعت اور بے وقار ہوکر رہ جاتاہے۔ ارادہ و اختیار کی آزادی کے تحت، انسان بآسانی جھوٹ بول سکتا ہے اور بہت سے غیر اخلاقی کام بھی کرسکتا ہے، مگر جھوٹ بول کر، دکھائی نہ دینے والی جس ” تباہی” کو وہ دعوت دے چکا ہوتا ہے، اس کو ٹالنا خود اس کے ارادہ و اختیار سے باہر ہوجاتا ہے۔ ہر خاص و عام کو اس حقیقت کا ادراک ہونا ہی چاہیے کہ اللہ تعالی کی امتحانی مصلحت میں، انسان کو عمل کی آزادی کا اختیار ہے، مگر عمل کے نتائج پر اس کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔
اس لیے، سچ ہی وہ واحد راستہ ہے جو شرف انسانیت کے عین مطابق ہے، اور دنیا و آخرت میں عزت و وقار کی ضمانت بھی ۔

چوں کہ انسان اپنی فطرت میں فتح و نصرت کے داعیات لے کر پیدا ہوتا ہے، اس لیے، اس کو جھوٹ کی ہر قسم سے محفوظ رہنے کی مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے، کیوں کہ جھوٹ کے سہارے، انسان کبھی بھی سچی فتح و نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔ با معنی کام یابی کے حصول کے لیے، انسان کو بالآخر سچائی کی شاہراہ پر ہی واپس آنا ہوگا۔علمی حلقوں میں یہ زریں قول شائع و ذائع ہے:
“الدنیا مزرعۃ الآخرۃ”
یعنی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اس بات کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر دنیا کی کام یابی، آخرت رخی زاویہ سے حاصل کی جائے، تو وہ آخرت کی کام یابی کے مترادف ہوگی، اور بے شک، آخرت میں کام یاب ہونا ہی، انسان کی سچی اور دائمی کام یابی ہے۔

Previous articleمطالعات فکشن : ایک تأثر، ایک جائزہ
Next articleپردہ کیوں ضروری ہے؟

اپنے خیالات کا اظہار کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here